Monthly archives: March, 2019

یوں تو کس پھول سے رنگت نہ گئی بو نہ گئی (اختر شیرانی)

یوں تو کس پھول سے رنگت نہ گئی بو نہ گئی اے محبت! مرے پہلو سے مگر تو نہ گئی مٹ چلے میری امیدوں کی طرح حرف مگر آج تک تیرے خطوں سے تری خوشبو نہ گئی فصلِ گل ختم ہوئی، رنگِ سمن خواب ہوا میری آنکھوں سے مگر میری سمن رو نہ گئی کب …

لاکھ بہلائیں طبیعت کو بہلتی ہی نہیں (اختر شیرانی)

لاکھ بہلائیں طبیعت کو بہلتی ہی نہیں دل میں اک پھانس چبھی ہے کہ نکلتی ہی نہیں قاعدہ ہے کہ جو گرتا ہے سنبھل جاتا ہے دل کی حالت وہ گری ہے کہ سنبھلتی ہی نہیں رنگ کیا کیا فلکِ پیر نے بدلے لیکن میری تقدیر، کہ رنگ بدلتی ہی نہیں کس کو کہتے ہیں …

یاروں کی خاموشی کا بھرم کھولنا پڑ (محسن نقوی)

یاروں کی خاموشی کا بھرم کھولنا پڑا اتنا سکوت تھا کہ مجھے بولنا پڑا صرف ایک تلخ بات سنانے  سے پیشتر کانوں میں پھول پھول کا رس گھولنا پڑا اپنے خطوں کے لفظ جلانے پڑے مجھے شفاف موتیوں کو کہاں رولنا پڑا؟ خوشبو کی سرد لہر سے جلنے لگے جو زخم پھولوں کو اپنا بندِ …

رات کو سونے سے پہلے (بلراج کومل)

کاغذ کی ناؤ رات کو سونے سے پہلے مجھ سے ننھا کہہ رہا تھا ! چاند لاکھوں میل کیونکر دور ہے کیوں چمکتے ہیں ستارے؟ ۔۔۔ دو غبارے ۔۔۔ کالی بلی کیا ہوئی؟ میرے ہاتھی کو پلاؤ گرم پانی۔۔۔ وہ کہانی ۔۔۔ مجھ کو نیند آنے لگی نصف شب کو آتے جاتے بادلوں کے درمیاں …

ہوا اس سے کہنا (محسن نقوی)

ہوا ! صبحدم اُس کی آہستہ آہستہ کھلتی آنکھ سے خواب کی سیپیاں چُننے جائے تو کہنا کہ ہم جاگتے ہیں !   ہوا اُس سے کہنا کہ جو ہجر کی آگ پیتی رُتوں کی طنابیں رگوں سے الجھتی ہوئی سانس کے ساتھ کس دیں انہیں رات کے سرمئی ہاتھ خیرات میں نیند کب دے …

سُنا ہے زمیں پر ۔۔۔۔۔۔ !(محسن نقوی)

سُنا ہے    زمیں پر وہی لوگ ملتے ہیں ۔۔۔۔۔ جن کو کبھی آسمانوں کے اُس پار روحوں کے میلے میں اِک دوسرے کی محبت ملی ہو۔۔۔۔!    مگر تم کہ میرے لیے نفرتوں کے اندھیرے میں ہنستی ہوئی روشنی ہو لہو میں رچی ! رگوں میں بسی ہو !! ہمیشہ سکوتِ شبِ غم میں …

زندگی ۔۔۔۔۔ ہم تری دہلیز پہ آبیٹھے ہیں (ایوب خاور)

زندگی اور موت کے درمیان ایک نظم زندگی ۔۔۔۔۔ ہم تری دہلیز پہ آبیٹھے ہیں ہاتھ میں کاسئہ تدبیر ہے ، آنکھوں میں کسی موسمِ گل رنگ کی خواہش ہے لبوں پہ ترے بے مہر زمانوں کے لئے شکوے ہیں اک ذرا دیکھ کہ ہم نرم مزاجوں کے لئے کون سی رات ہے جس رات …

ہمارے گھر میں (انیس ناگی)

بریف کیس میں ہمارے گھر میں نہ پھول کوئی نہ بیل ایسی کہ جس پہ کوئی پرندہ بیٹھے ہمیں سنائے وہ گیت جس سے ہمارے ذہنوں میں وسعتوں کا خیال جاگے کوئی تصور سفیر بن کر تمام دنیا کے بے نواؤں مشقتوں میں اسیر لوگوں کا حال اپنے  بریف کیسوں میں بھر کے لائے کہ …

غزل (باقی صدیقی)

داغِ دل ہم کو یاد آنے لگے لوگ اپنے دیئے جلانے لگے   کچھ نہ پا کر بھی مطمئن ہیں ہم عشق میں ہاتھ کیا خزانے لگے   خود فریبی سی خود فریبی ہے پاس کے ڈھول بھی سہانے لگے   اب تو ہوتا ہے ہر قدم پر گماں ہم یہ کیسا قدم اٹھانے لگے …

غزل (باقی صدیقی)

چیں بر جبیں ہو کتنے حسیں ہو   اتنی خموشی ! گویا نہیں ہو   وہ مہرباں ہیں کیوں کر یقیں ہو   یہ ہے بے حجابی پردہ نشیں ہو   جیسا سنا تھا ویسے نہیں ہو   سوچو تو باقی سب کچھ تمہیں ہو