Monthly archives: April, 2019

غزل (اختر مسلمی)

آنسوؤں کے طوفاں میں بجلیاں دبی رکھنا سرد سرد آہوں میں گرمیاں دبی رکھنا   کیفیت غمِ دل کی عیاں نہ ہو چہرے سے پردۃ تبسم میں تلخیاں دبی رکھنا   کون سننے والا ہے بے حسوں کی دنیا میں اپنے غم کی سینے میں داستاں دبی رکھنا   کس قدر انوکھا ہے شیوہ اہلِ …

تو نے اے رفیقِ جاں اور ہی گل کھلا دیئے (اعتبار ساجد)

تو نے اے رفیقِ جاں اور ہی گل کھلا دیئے بخیہ گری کے شوق میں نئے زخم لگادیئے دستِ ہوا نے ریت پر پہلے بنائے راستے پھر مرے گھر کے راستے گھر سے ترے ملا دیئے کتنی تھی اجنبی فضا پہلے پہل فراق میں درد کے اشتراک نے دوست کئی بنا دیئے آمدِ یار کی …

یہ تنہا رات یہ گہری فضائیں (احمد مشتاق)

یہ تنہا رات یہ گہری فضائیں اُسے ڈھونڈیں کہ اُس کو بھول جائیں خیالوں کی گھنی خاموشیوں میں گھلی جاتی ہیں لفظوں کی صدائیں یہ رستے رہروؤں سے بھاگتے ہیں یہاں چھپ چھپ کے چلتی ہیں ہوائیں یہ پانی خامشی سے بہ رہا ہے اسے دیکھیں کہ اس میں ڈوب جائیں جو غم جلتے ہیں …

اب نہ بہل سکے گا دل اب نہ دیا جلایئے (احمد مشتاق )

اب نہ بہل سکے گا دل اب نہ دیا جلایئے عشق و ہوس ہیں سب فریب آپ سے کیا چھپایئے اس نے کہا کہ یاد ہیں رنگ طلوع عشق کے میں نے کہا کہ چھوڑیئے اب انہیں بھول جایئے کیسے نفیس تھے مکاں صاف تھا کتنا آسماں میں نے کہا کہ وہ سماں آج کہاں …

وہی ان کی ستیزہ کاری ہے (احمد مشتاق)

وہی ان کی ستیزہ کاری ہے وہی بے چارگی ہماری ہے وہی ان کا تغافلِ پیہم وہی اپنی گلہ زاری ہے وہی رخسار و چشم و لب ان کے وہی بے چارگی ہماری ہے حسن ہو خیر ہو صداقت ہو سب پہ ان کی اجارہ داری ہے ہاتھ اٹھا توسن تخیل سے یہ کسی اور …

ایک پیغام (پروین شاکر )

ایک پیغام   وہی موسم ہے بارش کی ہنسی پیڑوں میں چھن چھن گونجتی ہے ہری شاخیں سنہری پھولوں کے زیور پہن کر تصور میں کسی کے مسکراتی ہیں ہوا کی اوڑھنی کا رنگ ہلکا گلابی ہے شناسا باغ کو جاتا ہوا خوشبو بھرا رستہ ہماری راہ تکتا ہے طلوع ماہ کی ساعت ہماری منتظر …

وہ مجبوری نہیں تھی ، یہ (پروین شاکر)

وہ مجبوری نہیں تھی ، یہ اداکاری نہیں ہے مگر دونوں طرف پہلی سی سرشاری نہیں ہے بہانے سے اسے دیکھ آنا پل دو پل کو یہ فردِ جرم ہے اور آنکھ انکاری نہیں ہے میں تیری سردمہری سے ذرا بد دل نہیں ہوں مرے دشمن! ترا یہ وار بھی کاری نہیں ہے میں اس …

مِری چنبیلی کی نرم خوشبو (فہمیدہ ریاض)

مِری چنبیلی کی نرم خوشبو   مِری چنبیلی کی نرم خوشبو ہوا کے دھارے پہ بہ رہی ہے ہوا کے ہاتھوں میں کھیلتی ہے تِرا بدن ڈھونڈنے چلی ہے   مِری چنبیلی کی نرم خوشبو مجھے تو زنجیر کر چکی ہے   الجھ گئی ہے کلائیوں میں مِرے گلے سے لپٹ گئی ہے   وہ …

یادیں (فہمیدہ ریاض)

یادیں   کچھ لمحے،  جو جی اٹھے تھے کبھی جو دل کی طرح دھڑکے تھے کبھی کچھ لمحے (جو مر بھی چکے) ان مردہ لمحوں کی روحیں احساس کے ویراں کھنڈروں میں بےچین بھٹکتی پھرتی ہیں