Monthly archives: June, 2019

میرے قابو میں نہ پہروں دلِ ناشاد آیا (داغ دہلوی)

میرے قابو میں نہ پہروں دلِ ناشاد آیا وہ مِرا بھولنے والا جو مجھے یاد آیا   دلِ ویراں سے رقیبوں نے مرادیں پائیں کام کس  کس کے مِرا خرمنِ آباد آیا   دی شبِ وصل مؤذن نے اذاں پچھلی رات ہائے کمبخت کو کس وقت خدا یاد آیا   لیجے سنیے اب افسانئہ فرقت …

زاہد نہ کہہ بری کہ یہ مستانے آدمی ہیں (داغ دہلوی)

زاہد نہ کہہ بری کہ یہ مستانے آدمی ہیں تجھ کو لِپٹ پڑیں گے کہ دیوانے آدمی ہیں   غیروں کی دوستی پر کیوں اعتبار کیجے یہ دشمنی کریں گے بیگانے آدمی ہیں   کیا چور ہیں جو ہم کو درباں تمہارا ٹوکے کہہ دو کہ یہ تو جانے پہچانے آدمی ہیں   ناصح سے …

راہ دیکھیں گے نہ دنیا سے گزرنے والے (داغ دہلوی)

راہ دیکھیں گے نہ دنیا سے گزرنے والے ہم تو جاتے ہیں ٹھہر جائیں ٹھہرنے والے   کثرتِ داغِ محبت سے کھلا ہے گلزار سیر کرتے ہیں مِرے دل میں گزرنے والے   آہ و افغاں سے گئے صبر وتحمل پہلے چلنے والوں سے بھی آگے ہیں ٹھہرنے والے   حشر میں لُطف ہو جب …

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا (احمد ندیم قاسمی)

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا میں تو دریا ہوں سمندر میں اُتر جاؤں گا   تیرے پہلو سے جو اٹھوں گا تو مشکل یہ ہے صرف اک شخص کو پاؤں گا جدھرجاؤں گا   اب تِرے شہر میں آؤں گا مسافر کی طرح سایئہ ابر کی مانند گزر جاؤں گا …

قرارِ جاں بھی تمہی ، اضطرابِ جاں بھی تمہی (احمد ندیم قاسمی)

قرارِ جاں بھی تمہی ، اضطرابِ جاں بھی تمہی مرا یقیں بھی تمہی ، مرا گماں بھی تمہی   تمہاری جان ہے نکہت، تمہارا جسم بہار مری غزل بھی تمہی، میری داستاں بھی تمہی   یہ کیا طلسم ہے ، دریا میں بن کے عکسِ قمر رُکے ہوئے بھی تمہی ہو ،  رواں دواں بھی …

فاصلے کے معنی کا کیوں فریب کھاتے ہو (احمد ندیم قاسمی)

فاصلے کے معنی کا  کیوں فریب کھاتے ہو جتنے دور جاتے ہو ، اتنے پاس آتے ہو   رات ٹوٹ پڑتی ہے جب  سکوتِ زنداں پر تم مِرے خیالوں میں چُھپ کے گنگناتے ہو   میری خلوتِ غم کے آہنی دریچوں پر اپنی مسکراہٹ کی شمعیں جلاتے ہو   جب تنی سلاخوں سے جھانکتی ہے …

کب سے ہوں کیا بتاؤں جہانِ خراب میں (مرزا غالب)

کب سے ہوں کیا بتاؤں جہانِ خراب میں شب ہائے ہجر کو بھی رکھوں گر حساب میں   تا پھر نہ انتطار میں نیند آئے عمر بھر آنے کا وعدہ کر گئے آئے جو خواب میں   قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے خط کے …

درد منت کشِ دوا نہ ہوا (مرزا غالب)

درد منت کشِ دوا نہ ہوا میں نہ اچھا ہوا برا نہ ہوا   جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو اک تماشہ ہوا گلہ نہ ہوا   کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب گالیاں کھا کے بے مزہ نہ ہوا   ہے خبر گرم ان کے آنے کی آج ہی گھر میں بوریا نہ …

شوق ہر رنگ رقیبِ سرو ساماں نکلا (مرزا غالب)

شوق ہر رنگ رقیبِ سرو ساماں نکلا قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا   زخم نے داد نہ دی تنگئی دل کی یارب تیر بھی سینئہ بسمل سے پُرافشاں نکلا   بوئے گل، نالئہ دل ، دودِ چراغِ محفل جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا   دلِ حسرت زدہ تھا مائدۃ …