Monthly archives: February, 2020

وصل ہو جائے یہیں، حشر میں کیا رکھا ہے (امیر مینائی)

وصل ہو جائے یہیں، حشر میں کیا رکھا ہے آج کی بات کو کیوں کل پہ اٹھا رکھا ہے محتسب پوچھ نہ تو شیشے میں کیا رکھا ہے پارسائی کا لہو اس میں بھرا رکھا ہے کہتے ہیں آئے جوانی تو یہ چوری نکلے میرے جوبن کو لڑکپن نے چرا رکھا ہے اس تغافل میں …

اب کے عجب سفر پہ نکلنا پڑا مجھے (تابش الوری)

اب کے عجب سفر پہ نکلنا پڑا مجھے  راہیں کسی کے نام تھیں چلنا پڑا مجھے تاریک شب نے سارے ستارے بجھا دیے  میں صبح کا چراغ تھا جلنا پڑا مجھے یاران دشت رونق بازار بن گئے  سنسان راستوں پہ نکلنا پڑا مجھے ہر اہل انجمن کی ضرورت تھی روشنی  میں شمع انجمن تھا پگھلنا …

اپنی فرحت کے دن اے یار چلے آتے ہیں (تعشق لکھنوی)

اپنی فرحت کے دن اے یار چلے آتے ہیں کیفیت پر گل رخسار چلے آتے ہیں پڑ گئی کیا نگہ مست ترے ساقی کی لڑکھڑاتے ہوئے مے خوار چلے آتے ہیں یاد کیں نشہ میں ڈوبی ہوئی آنکھیں کس کی غش تجھے اے دل بیمار چلے آتے ہیں راہ میں صاحب اکسیر کھڑے ہیں مشتاق …

اب وہ زیبائشیں کہاں باقی (اتباف ابرک)

اب وہ زیبائشیں کہاں باقی دل کی فرمائشیں کہاں باقی یونہی خود ساختہ سا ہنستا ہوں ورنہ گنجائشیں کہاں باقی کوئی کہہ دے تو مسکراتا ہوں خود میں اب خواہشیں کہاں باقی دسترس میں حیات ہے لیکن اس کی آرائشیں کہاں باقی رونقیں دیکھنے میں جوبن پر کل سی گرمائشیں کہاں باقی ساری آلودگی ہے …

نبھاتا کون ہے قول و قسم، تم جانتے تھے (احمد فراز)

نبھاتا کون ہے قول و قسم، تم جانتے تھے یہ قُربت عارضی ہے کم سے کم تم جانتے تھے رہا ہے کون، کس کے ساتھ انجامِ سفر تک یہ آغازِ مسافت ہی سے ہم تم جانتے تھے مزاجوں میں اُتر جاتی ہے تبدیلی مری جاں سو رہ سکتے تھے کیسے ہم بہم، تم جانتے تھے …

ﺩﻝِ ﺍٓﺷﻔﺘﮧ ﭘﮧ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﮐﺌﯽ ﯾﺎﺩ ﺍٓﺋﮯ(جمیل الدین عالی)

ﺩﻝِ       ﺍٓﺷﻔﺘﮧ      ﭘﮧ      ﺍﻟﺰﺍﻡ      ﮐﺌﯽ     ﯾﺎﺩ    ﺍٓﺋﮯ ﺟﺐ     ﺗﺮﺍ      ﺫِﮐﺮ     ﭼﮭﮍﺍ    ﻧﺎﻡ    ﮐﺌﯽ   ﯾﺎﺩ   ﺍٓﺋﮯ ﺗُﺠﮫ ﺳﮯ ﭼﮭﭧ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ گزﺭنی تھی ﺳﻮ گزﺭﯼ ﻟﯿﮑﻦ ﻟﻤﺤﮧ    ﻟﻤﺤﮧ    ﺳﺤﺮ   ﻭ   ﺷﺎﻡ      ﮐﺌﯽ    ﯾﺎﺩ    ﺍٓﺋﮯ ﮨﺎﺋﮯ    ﻧﻮ    ﻋﻤﺮ    ﺍﺩﯾﺒﻮﮞ    ﮐﺎ    ﯾﮧ    ﺍﻧﺪﺍﺯِ    ﺑﯿﺎﮞ ﺍﭘﻨﮯ      ﻣﮑﺘﻮﺏ      ﺗﺮﮮ     ﻧﺎﻡ     ﮐﺌﯽ    ﯾﺎﺩ    ﺍٓﺋﮯ ﺍٓﺝ    ﺗﮏ    ﻣِﻞ   ﻧﮧ    ﺳﮑﺎ   ﺍﭘﻨﯽ  ﺗﺒﺎﮨﯽ  …

شیریں لبوں میں خلد کا مفہوم بے نقاب (عبد الحمید عدم)

شیریں لبوں میں خلد کا مفہوم بے نقاب زلفوں میں جھومتی ہوئی موجِ جنوں نواز موجِ جنوں نواز میں طوفانِ بے خودی طوفانِ بے خودی میں تمناؤں کا گداز باتوں میں لہلہاتی ہوئی جام کی کھنک اور جام کی کھنک میں بہاروں کے برگ و ساز اعضا میں لوچ،باتوں میں رس،دل میں مستیاں آنکھوں میں …

میرے ہی لہو پر گزر اوقات کرو ہو (کلیم عاجز)

میرے ہی لہو پر گزر اوقات کرو ہو مجھ سے ہی امیروں کی طرح بات کرو ہو دن ایک ستم، ایک ستم رات کرو ہو وہ دوست ہو، دشمن کو بھی تم مات کرو ہو ہم خاک نشیں، تم سخن آرائے سرِ بام پاس آ کے ملو، دُور سے کیا بات کرو ہو ہم کو …

عشق کر کے دیکھ لی جو بے بسی دیکھی نہ تھی (حکیم ناصر)

عشق کر کے دیکھ لی جو بے بسی دیکھی نہ تھی  اس قدر اُلجھن میں پہلے زندگی دیکھی نہ تھی یہ تماشا بھی عجب ہے ان کے اُٹھ جانے کے بعد میں نے دن میں اس سے پہلے تیرگی دیکھی نہ تھی آپ کیا آئے کہ رُخصت سب اندھیرے ہو گئے اس قدر گھر میں …

پیام آئے ہیں اس یارِ بے وفا کے مجھے (احمد فراز)

پیام آئے ہیں اس یارِ بے وفا کے مجھے جسے قرار نہ آیا کہیں بھلا کے مجھے جدائیاں ہوں ایسی کہ عمر بھر نہ ملیں فریب دو تو ذرا سلسلے بڑھا کے مجھے نشے سے کم تو نہیں یادِ یار کا عالم کہ لے اڑا ہے کوئی دوش پر ہوا کے مجھے میں خود کو …