Monthly archives: October, 2020

دنیا کے ستم یاد نہ اپنی وفا یاد (جگر مراد آبادی)

دنیا کے ستم یاد نہ اپنی وفا یاد اب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد میں شکوہ بلب تھا مجھے یہ بھی نہ رہا یاد شاید کہ مرے بھولنے والے نے کیا یاد چھیڑا تھا جسے پہلے پہل تیری نظر نے اب تک ہے وہ اک نغمئہ بے ساز و سدا یاد …

بے قراری سی بے قراری ہے (جون ایلیا)

بے قراری سی بے قراری ہے وصل ہے اور فراق طاری ہے جو گزاری نہ جا سکی ہم سے ہم نے وہ زندگی گزاری ہے نگھرے کیا ہوئے کہ لوگوں پر اپنا سایہ بھی اب تو بھاری ہے بن تمہارے کبھی نہیں آئی کیا مری نیند بھی تمہاری ہے اس سے کہیو کہ دل کی …

جو کوئے دوست کو جاؤں تو پاسباں کے لیے (مصطفیٰ خان شیفتہ)

جو کوئے دوست کو جاؤں تو پاسباں کے لیے نہیں ہے خواب سے بہتر کچھ ارمغاں کے لیے تمام علت درماندگی ہے قلت شوق تپش ہوئی پر پرواز مرغ جاں کے لیے شریک بلبل و قمری ہیں وہ زبوں فطرت جو بے قرار رہے سیر گلستاں کے لیے امید ہے کہ نباہیں گے  امتحاں لے …

رازِ الفت چھپا کے دیکھ لیا (فیض احمد فیض)

رازِ الفت چھپا کے دیکھ لیا دل بہت کچھ جلا کے دیکھ لیا اور کیا دیکھنے کو باقی ہے آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا وہ مرے ہو کے بھی مِرے نہ ہوئے ان کو اپنا بنا کے دیکھ لیا آج ان کی نظر میں ہم نے سب کی نظریں بچا کے دیکھ لیا …

صبح کا بھید کیا ملا ہم کو (باقی صدیقی)

صبح کا بھید کیا ملا ہم کو لگ گیا رات کا دھڑکا ہم کو بھیڑ میں کھو گئے آخر ہم بھی نہ ملا جب کوئی رستہ ہم کو کشتیاں ٹوٹ گئی ہیں ساری اب لیے پھرتا ہے دریا ہم کو ہم کہ شعلہ بھی ہیں اور شبنم بھی تو کس رنگ میں دیکھا ہم کو …

رسمِ سجدہ بھی اٹھا دی ہم نے (باقی صدیقی)

رسمِ سجدہ بھی اٹھا دی ہم نے عظمتِ عشق بڑھادی ہم نے آنچ صیاد کے گھر تک پہنچی اتنی شعلوں کو ہوا دی ہم نے دل کو آنے لگا بسنے کا خیال آگ جب گھر کو لگا دی ہم نے اس قدر تلخ تھی رودادِ حیات یاد آتے ہی بھلا دی ہم نے حال جب …

دل قتیلِ ادا تھا پہلے بھی (باقی صدیقی)

دل قتیلِ ادا تھا پہلے بھی کوئی ہم سے خفا تھا پہلے بھی ہم تو ہر دور کے مسافر ہیں ظلم ہم پر روا تھا پہلے بھی وقت کا کوئی اعتبار نہیں ہم نے تم سے کہا تھا پہلے بھی یہی رنگِ چمن کی باتیں تھیں یہی شورِ صبا تھا پہلے بھی کسی در پر …

ان کا یا اپنا تماشا دیکھو (باقی صدیقی)

ان کا یا اپنا تماشا دیکھو جو دکھاتا ہے زمانہ دیکھو وقت کے پاس ہیں کچھ تصویریں کوئی ڈوبا ہے کہ ابھرا دیکھو رنگ ساحل کا نکھر آئے گا دو گھڑی جانبِ دریا دیکھو ہم سفر غیر ہوئے جاتے ہیں فاصلہ رہ گیا کتنا دیکھو دوستی خونِ جگر چاہتی ہے کام مشکل ہے تو رستہ …