Category «افضل خان»

پاؤں کے زخم دکھانے کی اجازت دی جائے (افضل خان)

پاؤں کے زخم دکھانے کی اجازت دی جائے ورنہ رہگیر کو جانے کی اجازت دی جائے اس قدر ضبط مری جان بھی لے سکتا ہے کم سے کم اشک بہانے کی اجازت دی جائے کارِ دنیا مجھے مجنوں نہیں بننا لیکن عشق میں نام کمانے کی اجازت دی جائے پھر نہیں ہوگا مرا شہرِ خموشاں …

یہ گنجِ آب تو ہے فقط زائرین کے لیے (افضل خان)

یہ گنجِ آب تو ہے فقط زائرین کے لیے سمجھ سکو تو گھاؤ ہے کنواں زمیں کے لیے پلٹ کے تیرے پاس آگیا ہوں اے اجاڑ دشت کسی بھی دل میں جا نہیں ترے مکین کے لیے رگوں میں اب جو لہر ہے وہ خوں نہیں ہے زہر ہے ضروری ہو چکے ہیں سانپ آستین …

وہ جو اک شخص وہاں ہے وہ یہاں کیسے ہو (افضل خان)

وہ جو اک شخص وہاں ہے وہ یہاں کیسے ہو ہجر پر وصل کی حالت کا گماں کیسے ہو بے نمو خواب میں پیوست جڑیں ہیں میری ایک گملے میں کوئی نخل جواں کیسے ہو تم تو الفاظ کے نشتر سے بھی مر جاتے تھے اب جو حالات ہیں اے اہلِ زباں، کیسے ہو آنکھ …

وصل کا شکریہ مگر دل کو ملال اور تھا (افضل خان)

وصل کا شکریہ مگر دل کو ملال اور تھا تیرا جواب اور ہے میرا سوال اور تھا گردشِ روزگار میں آنے کے ہم نہیں میاں عشق کی بات چھوڑیئے عشق کا جال اور تھا دفعتاً ایک لہر پاؤں ہمارے پڑ گئی گھاٹ سے لوٹ آئے ہیں ورنہ خیال اور تھا شہر کے عین وسط میں …

ہوا کا شکریہ اس نے دھواں جانا ہے مجھ کو (افضل خان)

ہوا کا شکریہ اس نے دھواں جانا ہے مجھ کو وگرنہ مسئلہ یہ تھا کہاں جانا ہے مجھ کو محبت کی، غمِ نان و نمک، کی شاعری کی مثلث کھینچتی ہے ناگہاں جانا ہے مجھ کو یہ محرومی بھی میرے پاؤں سے لپٹی ہوئی ہے جہاں میں جا نہیں سکتا وہاں جانا ہے مجھ کو …

مجھے رونا نہیں آواز بھی بھاری نہیں کرنی (افضل خان)

مجھے رونا نہیں آواز بھی بھاری نہیں کرنی محبت کی کہانی میں اداکاری نہیں کرنی ہوا کے خوف سے لپٹا ہوا ہوں خشک ٹہنی سے کہیں جانا نہیں جانے کی تیاری نہیں کرنی تحمل اے محبت! ہجر پتھریلا علاقہ ہے تجھے اس راستے پر تیز رفتاری نہیں کرنی ہمارا دل ذرا اکتا گیا تھا گھر …

کیا رو کے مانگنی ہے خوشی کے لیے دعا (افضل خان)

کیا رو کے مانگنی ہے خوشی کے لیے دعا سب دوستوں کی خیر ہو سبھی کے لیے دعا امکان قبولیت کی گھڑی کا تھا اس لیے مانگی نہیں کسی نے کسی کے لیے دعا ہاتھ اٹھ گئے آج تو پھراے دلِ سخی جس نے بھی بد دعا دی اسے کے لیے دعا کیا راستے کے …

عشق میں شعلہ بیانی کی طلب تھی مجھ کو (افضل خان)

عشق میں شعلہ بیانی کی طلب تھی مجھ کو اس حقیقت میں کہانی کی طلب تھی مجھ کو رات سویا میں ترا نقش سرہانے رکھ کر خواب میں مصرعئہ ثانی کی طلب تھی مجھ کو میں خود آنسو کی طرح آنکھ میں آیا تھا اپنے اندر ہی روانی کی طلب تھی مجھ کو تیری ضد …

شکستِ زندگی ویسے بھی موت ہی ہے نا (افضل خان)

شکستِ زندگی ویسے بھی موت ہی ہے نا تو سچ بتا یہ ملاقات آخری ہے نا کہا نہیں تھا مرا جسم اور بھر یا رب سو اب یہ خاک ترے پاس بچ گئی ہے نا تو میرے حال سے انجان کب ہے اے دنیا جو بات کہہ نہیں پایا سمجھ رہی ہے نا اسی لیے …

راہ بھولا ہوں مگر یہ مری خامی تو نہیں (افضل خان)

راہ بھولا ہوں مگر یہ مری خامی تو نہیں میں کہیں اور سے آیا ہوں مقامی تو نہیں تیری مسند پہ کوئی اور نہیں آ سکتا یہ مرا دل ہے کوئی خالی آسامی تو نہیں اونچا لہجہ ہے فقط زورِ دلائل کے لیے یہ مری جان، مری تلخ کلامی تو نہیں میں ہمہ وقت محبت …