Category «جلیل عالی»

کیا کیا دلوں کا خوف چھپانا پڑا ہمیں (جلیل عالی)

کیا کیا دلوں کا خوف چھپانا پڑا ہمیں خود ڈر گئے تو سب کو ڈرانا پڑا ہمیں اک دوسرے سے بچ کے نکلنا محال تھا اک دوسرے کو روند کے جانا پڑا ہمیں اپنے دیے کو چاند بتانے کے واسطے بستی کا ہر چراغ بجھانا پڑا ہمیں وحشی ہوا نے ایسے برہنہ کئے بدن اپنا …

تمہارا کیا ہے تمہیں آساں بہت رستے بدلنا ہے (جلیل عالی)

تمہارا کیا ہے تمہیں آساں بہت رستے بدلنا ہے ہمیں ہر ایک موسم قافلے کے ساتھ چلنا ہے بس اک ڈھلوان ہے جس پر لڑھکتے جا رہے ہیں ہم ہمیں جانے نشیبوں میں کہاں جا کر سنبھلنا ہے ہم اس ڈر سے کوئی سورج چمکنے ہی نہیں دیتے کہ جانے شب کے اندھیاروں سے کیا …

اپنے ہونے سے بھی انکار کئے جاتے ہیں(جلیل عالی)

اپنے ہونے سے بھی انکار کئے جاتے ہیں ہم کہ رستہ ترا ہموار کئے جاتے ہیں روز اب شہر میں سجتے ہیں تجارت میلے لوگ صحنوں کو بھی بازار کئے جاتے ہیں ڈالتے ہیں وہ جو کشکول میں سانسیں گن کر کل کے سپنے بھی گرفتار کئے جاتے ہیں کس کو معلوم یہاں اصل کہانی …

راستہ سوچتے رہنے سے کب بنتا ہے (جلیل عالی)

راستہ سوچتے رہنے سے کب بنتا ہے سر میں سودا ہو تو دیوار میں در بنتا ہے آگ ہی آگ ہو سینے میں تو کیا پھول جھڑیں شعلہ ہوتی ہے زباں لفظ شرر بنتا ہے زندگی سوچ عذابوں میں گزاری ہے میاں ایک دن میں کہاں انداز نظر بنتا ہے مدعی تخت کے آتے ہیں …

برگ بھر بار محبت کا اٹھایا کب تھا (جلیل عالی)

برگ بھر بار محبت کا اٹھایا کب تھا تم نے سینے میں کوئی درد بسایا کب تھا اب جو خود سے بھی جدا ہو کے پھرو ہو بن میں تم نے بستی میں کوئی دوست بنایا کب تھا نقدِ احساس کہ انساں کا بھرم ہوتا ہے ہم نے کھویا ہے کہاں آپ نے پایا کب …

دل آباد کہاں رہ پائے اس کی یاد بھلا دینے سے (جلیل عالی)

دل آباد کہاں رہ پائے اس کی یاد بھلا دینے سے کمرہ ویراں ہو جاتا ہے اک تصویر ہٹا دینے سے بیتابی کچھ اور بڑھا دی اک جھلک دکھلا دینے سے پیاس بجھے کیسے صحرا کی دو بوندیں برسا دینے سے ہنستی آنکھیں لہو رلائیں کھلتے گل چہرے مرجھائیں کیا پائیں بے مہر ہوائیں دل …