Category «جون ایلیا»

شانوں پہ کِس کے اشک بہایا کریں گی آپ (جون ایلیا)

شانوں پہ کِس کے اشک بہایا کریں گی آپ روٹھے گا کون کِس کو منایا کریں گی آپ وہ جارہا صبحِ محبت کا کارواں اب شام کو بھی کہیں نہ جایا کریں گی آپ اب کون خود پرست ستائے گا آپ کو کس بے وفا کے ناز اٹھایا کریں گی آپ پہروں شبِ فراق میں …

بہت دل کو کشادہ کر لیا کیا (جون ایلیا)

بہت دل کو کشادہ کر لیا کیا زمانے بھر سے وعدہ کر لیا کیا تو کیا سچ مچ جدائی مجھ سے کر لی تو خود اپنے کو آدھا کر لیا کیا ہنر مندی سے اپنی دل کا صفحہ مری جاں تم نے سادہ کر لیا کیا جو یکسر جان ہے اس کے بدن سے کہو …

لمحے لمحے کی نارسائی ہے (جون ایلیا)

لمحے لمحے کی نارسائی ہے زندگی حالتِ جدائی ہے مردِ میداں ہوں اپنی ذات کا میں میں نے سب سے شکست کھائی ہے اک عجب حال ہے کہ اب اس کو یاد کرنا بھی بے وفائی ہے اب یہ صورت ہے جانِ جاں کے تجھے بھولنے میں ہی میری بھلائی ہے خود کو بھولا ہوں …

ﻏﻢ ﮨﮯ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﮐﺎ ﺟﺎﻧﺎﮞ (جون ایلیا)

ﻏﻢ ﮨﮯ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﮐﺎ ﺟﺎﻧﺎﮞﻭﮦ ﺟﻮ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺗﮭﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﺗﻢ ﮨﻮ ﺁﻏﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽﺩﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮓ ﺭﮨﺎ ﻣﺮﺍ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺑﮭﯽﯾﻌﻨﯽ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﺗﮭﺎ , ﺧﻮﺍﺏ ﺗﮭﺎ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﺷﮩﺮِ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺁﺑﺎﺩﺧﻮﺍﺏ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﭽﮫ …

اک ہی مژدہ صبح لاتی ہے (جون ایلیا)

اک ہی مژدہ صبح لاتی ہے دھوپ آنگن میں پھیل جاتی ہے رنگِ موسم ہے اور بادِ صبا شہر کوچوں میں خاک اڑاتی ہے فرش پر کاغذ اڑتے پھرتے ہیں میز پر گرد جمتی جاتی  ہے سوچتا ہوں کہ اس کی یاد آخر اب کسے رات بھر جگاتی ہے میں بھی اذنِ نوا گری چاہوں …

سر ہی اب پھوڑیے ندامت میں (جون ایلیا)

سر ہی اب پھوڑیے ندامت میںنیند آنے لگی ھے فرقت میں ھیں دلیلیں تیرے خلاف مگرسوچتا ھُوں تیری حمایت میں رُوح نے عشق کا فریب دیاجسم کو جسم کی عداوت میں اب فقط عادتوں کی ورزش ھےرُوح شامل نہیں شکایت میں عشق کو درمیاں نہ لاؤ کہ میںچیختا ھُوں بدن کی عسرت میں یہ کچھ …

نظر حیران دل ویران، میرا جی نہیں لگتا (جون ایلیا)

نظر حیران دل ویران، میرا جی نہیں لگتا بچھڑ کے تم سے میری جان ! میرا جی نہیں لگتا کوئی بھی تو نہیں ہے جو،پُکارے راہ میں مجھ کو ہوں میں بے نام اک انسان،میرا جی نہیں لگتا جہاں ملتے تھے ہم تم اور جہاں مل کر بچھڑتے تھے نہ وہ دٓر ہے ،نہ وہ …

ایک گماں کا حال ہے اور فقط گماں میں ہے (جون ایلیا)

ایک گماں کا حال ہے اور فقط گماں میں ہے کس نے عذابِ جاں سہا، کون عذابِ جاں میں ہے لمحہ بہ لمحہ دم بہ دم آن بہ آن رم بہ رم میں بھی گزشتگاں میں ہوں تو بھی گزشتگاں میں ہے آدم و ذاتِ کبریا کرب میں ہیں جدا جدا کیا کہوں ان کا …

دل نے کیا ہے قصد سفر گھر سمیٹ لو (جون ایلیا)

دل نے کیا ہے قصد سفر گھر سمیٹ لو جانا ہے اس دیار سے منظر سمیٹ لو آزادگی میں شرط بھی ہے احتیاط کی پرواز کا ہے اذن مگر پر سمیٹ لو حملہ ہے چار سو در و دیوار شہر کا سب جنگلوں کو شہر کے اندر سمیٹ لو بکھرا ہوا ہوں صرصر شام فراق …