Category «حیدر علی آتش»

ہوتا ہے سوزِ عشق سے جل جل کے دل تمام (حیدر علی آتش)

ہوتا ہے سوزِ عشق سے جل جل کے دل تمام کرتی ہے روح مرحلہِ آب و گل تمام دردِ فراقِ یار سے کہتا ہے بندنہ اعضا ہمارے ہو گئے ہیں مضمحل تمام ہوتا ہے پردہ فاش کلام دروغ کا وعدے کا دن سمجھ لے وہ پیماں گسل تمام خلوت میں ساتھ یار کے جانا نہ …

معشوق نہیں کوئی حسیں تم سے زیادہ (حیدر علی آتش)

معشوق نہیں کوئی حسیں تم سے زیادہ مشتاق ہیں کس ماہ کے انجم سے زیادہ صوفی جو سنے نالہ موزوں کو ہمارے حالے ہو مغنی کے ترنم سے زیادہ آئینے میں دیکھا ہے جو منہ چاند سا اپنا نہ گم ہے وہ بت، عاشق خود گم سے زیادہ بجلی کو جلا دیں گے وہ لب …

غزل جو ہم سے وہ محبوب نکتہ داں سنتا (حیدر علی آتش)

غزل جو ہم سے وہ محبوب نکتہ داں سنتا زمین شعر کا افسانہ آسماں سنتا زبان کون سی مشغول ذکر خیر نہیں کہاں کہاں نہیں میں تیری داستاں سنتا خوشی کے مارے زمیں پر قدم نہیں پڑتے جرس سے مژدۃ منزل ہے کارواں سنتا نہ پوچھ، کان میں کیا کیا کہا ہے، کس کس نے …

رخصت یار کا جس وقت خیال اتا ہے (حیدر علی آتش)

رخصت یار کا جس وقت خیال اتا ہے عمر رفتہ کو مجھے یاد دلا جاتا ہے خیار سے خشک ہوں گو، ہجر میں اس گل رو کے پر وہ کانٹا ہوں جو دامن نہیں الجھاتا ہے خس و خاشاک کا رتبہ ہے  مجھے عالم میں پہلے پھنکتا ہوں میں جو آگ کو سلگاتا ہے جان …

تری زلفوں نے بل کھایا تو ہوتا (حیدر علی آتش)

تری زلفوں نے بل کھایا تو ہوتا ذرا سنبل کو لہرایا تو ہوتا رخِ بے داغ دکھلایا تو ہوتا گل و لالہ کو شرمایا تو ہوتا چلے گا کبک کیا رفتار تیری یہ انداز قدم پایا تو ہوتا نہ کیوں کر حشر ہوتا دیکھتے ہو قیامت قد ترا لایا تو ہوتا بجا لاتے اسے آنکھوں …

یار کو میں نے، مجھے یار نے سونے نہ دیا (حیدر علی آتش)

یار کو میں نے، مجھے یار نے سونے نہ دیا رات بھر طالع بیدار نے سونے نہ دیا خاک پر سنگ در یار نے سونے نہ دیا دھوپ میں سایہِ دیوار نے سونے نہ دیا شام سے وصل کی شب آنکھ نہ جھپکی تا صبح شادیِ دولتِ دیدار نے سونے نہ دیا رات بھر کیں …

گستاخ بہت شمع سے پروانہ ہوا ہے (حیدر علی آتش)

گستاخ بہت شمع سے پروانہ ہوا ہے موت آئی ہے، سر چڑھتا ہے، دیوانہ ہوا ہے اس عالم ایجاد میں گردش سے فلک کے کیا کیا نہیں ہونے کا ہے کیا کیا نہ ہوا ہے نالوں سے مرے کون نہ تھا  تنگ مرے بعد کس گھر میں نہیں سجدۃ شکرانہ ہوا ہے یاد آتی ہے …

سن تو سہی جہاں میں ہے ترا فسانہ کیا (حیدر علی آتش)

سن تو سہی جہاں میں ہے ترا فسانہ کیا کہتی ہے تجھ کو خلقِ خدا غائبانہ کیا زیر زمیں سے آتا ہے جو گل زر بکف قاروں نے راستے میں لٹایا خزانہ کیا زینہ صبا کا ڈھونڈتی ہے اپنی مشت خاک بامِ بلند، یار کا ہے آستانہ کیا چاروں طرف سے صورتِ جاناں ہو جلوہ …