Category «ساغر صدیقی»

وہ بلائیں تو کیا تماشا ہو (ساغر صدیقی)

وہ بلائیں تو کیا تماشا ہو ہم نہ جائیں تو کیا تماشا ہو یہ کناروں سے کھیلنے والے ڈوب جائیں توکیا تماشا ہو بندہ پرور جو ہم پہ گزری ہے ہم بتائیں توکیا تماشا ہو آج ہم بھی تری وفاؤں پر مسکرائیں توکیا تماشا ہو تیری صورت جو اتفاق سے ہم بھول جائیں توکیا تماشا …

رودادِ محبت کیا کہیے، کچھ یاد رہی کچھ بھول گئے ( ساغر صدیقی)

  رودادِ محبت کیا کہیے، کچھ یاد رہی کچھ بھول گئے دو دن کی مسرت کیا کہیے، کچھ یاد رہی کچھ بھول گئے   کچھ حال کے اندھے ساتھی تھے، کچھ ماضی کے عیار سجن احباب کی چاہت کیا کہیے، کچھ یاد رہی کچھ بھول گئے    کانٹوں سے بھرا ہے دامنِ دل ، شبنم …

چراغِ طور جلاؤ بڑا اندھیرا ہے ( ساغر صدیقی)

چراغِ طور جلاؤ بڑا اندھیرا ہے ذرا نقاب اتھاؤ! بڑا اندھیرا ہے   ابھی تو صبح کے ماتھے کا رنگ کالا ہے ابھی فریب نہ کھاؤ! بڑا اندھیرا ہے   وہ جن کے ہوتے ہیں خورشید آستینوں میں انہیں کہیں سے بلاؤ! بڑا ندھیرا ہے   مجھے تمہاری نگاہوں پہ اعتماد نہیں مرے قریب نہ …

پوچھا کسی نے حال تو رو دیئے ( ساغر صدیقی)

پوچھا کسی نے حال تو رو دیئے پانی میں عکس چاند کا دیکھا تو رو دیئے   نغمہ کسی نے ساز پہ چھیڑا تو رو دیئے غنچہ کسی نے شاخ سے توڑا تو رو دیئے   اڑتا ہوا غبار سرِ راہ دیکھ کر انجام ہم نے عشق کا سوچا تو رو دیئے   بادل فضا …