Category «شکیب جلالی»

آگ کے درمیان سے نکلا (شکیب جلالی)

آگ کے درمیان سے نکلا میں بھی کس امتحان سے نکلا پھر ہوا سے سلگ اٹھے پتے پھر دھواں گلستان سے نکلا جب بھی نکلا ستارۂ امید کہر کے درمیان سے نکلا چاندنی جھانکتی ہے گلیوں میں کوئی سایہ مکان سے نکلا ایک شعلہ پھر اک دھویں کی لکیر اور کیا خاکدان سے نکلا چاند …

جب بھی گُلشن پہ گَھٹا چھائی ہے (شکیب جلالی)

جب بھی گُلشن پہ گَھٹا چھائی ہے چشمِ مَے گُوں، تِری یاد آئی ہے کِس کے جَلووں کو نظر میں لاؤں حُسن خوُد میرا تماشائی ہے آپ کا ذکر نہیں تھا لیکن بات پر بات نکل آئی ہے زندگی بخش عزائم کی قسم ناؤ ساحل کو بہا لائی ہے مُجھ کو دُنیا کی مُحبّت پہ …

زعمِ وَفا بھی ہے ہَمَیں عِشقِ بُتاں کے ساتھ(شکیب جلالی)

زعمِ وَفا بھی ہے ہَمَیں عِشقِ بُتاں کے ساتھاُبھریں گے کیا، کہ ڈُوبے ہیں سنگِ گراں کے ساتھ تنہائیوں کے کیف سے نا آشنا نہیں !وابستگی ضرُور ہے بزمِ جہاں کے ساتھ اے چشمِ تر سفِینۂ دِل کی تھی کیا بِساطساحِل نَشِیں بھی بہہ گئےسَیلِ رَواں کے ساتھ اُن ساعتوں کی یاد سے مہکا ہُوا …

آدابِ چَمن بدل رہے ہیں (شکیب جلالی)

آدابِ چَمن بدل رہے ہیںصحرا میں گُلاب پَل رہے ہیںدُنیا کی حقیقتیں وہی ہیںاندازِ نظر بدل رہے ہیںآمد ہے کِس اَسیرِ نَو کیزنداں میں چراغ جَل رہے ہیںہمّت نے جواب دے دیا ہےدیوانے پھر بھی چَل رہے ہیںہونٹوں پہ ہنسی اور آنکھ پُرنمپانی سے چراغ جَل رہے ہیںآشائیں غرُوب ہو رہی ہیںاُمید کے سائے ڈھل …