Category «فراق گورکھپوری»

ہجر و وصالِ یار کا پردہ اُٹھا دیا (فراق گورکھپوری)

ہجر و وصالِ یار کا پردہ اُٹھا دیا خود بڑھ کے عِشق نے مجھے میرا پتا دیا گرد و غُبارِ ہستیِ فانی اُڑا دیا اے کیمیائے عِشق مجھے کیا بَنا دیا وہ سامنے ہے اور نَظر سے چُھپا دیا اے عِشقِ بے حجاب مجھے کیا دِکھا دِیا وہ شانِ خامشی کہ بہاریں ہیں مُنتظر وہ …

دیتے ہیں جام شہادت مجھے معلوم نہ تھا (فراق گورکھپوری)

دیتے ہیں جام شہادت مجھے معلوم نہ تھا ہے یہ آئین محبت مجھے معلوم نہ تھا مطلب چشم مروت مجھے معلوم نہ تھا تجھ کو مجھ سے تھی شکایت مجھے معلوم نہ تھا چشم خاموش کی بابت مجھے معلوم نہ تھا یہ بھی ہے حرف و حکایت مجھے معلوم نہ تھا عشق بس میں ہے …

تُم تو چُپ رہنے کو بھی رنجشِ بے جا سمجھے (فراق گورکھپوری)

تُم تو چُپ رہنے کو بھی رنجشِ بے جا سمجھے درد کو درد نہ سمجھے تو کوئی کیا سمجھے جب تِری یاد نہ تھی، جب تِرا احساس نہ تھا ہم تو اُس کو بھی مُحبّت کا زمانہ سمجھے تیرے وارفتہء وحشت کی ہے دُنیا ہی کچھ اور وہ گُلستاں، نہ وہ زِنداں، نہ وہ صحرا …