Category «فراق گورکھپوری»

نگاہِ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا (فراق گورکھ پوری)

نگاہِ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا حجاب اہلِ محبت کو آئے ہیں کیا کیا جہاں میں تھی بس اک افواہ تیرے جلووں کی چراغِ دیر و حرم جھلملائے ہیں کیا کیا دو چار برقِ تجلی سے رہنے والوں نے فریب نرم نگاہی کے کھائے ہیں کیا کیا بقدرِ ذوقِ نظر دیدِ حسن کیا …

کمی نہ کی ترے وحشی نے خاک اڑانے میں (فراق گورکھ پوری)

کمی نہ کی ترے وحشی نے خاک اڑانے میں جنوں کا نام اچھلتا رہا زمانے میں فراق دوڑ گئی روح سی زمانے میں کہاں کا درد بھرا تھا فسانے میں وہ آستیں ہے کوئی جو لہو نہ دے نکلے وہ کوئی حسن ہے ججھکے جو رنگ لانے میں کبھی بیان دل خوں شدہ سے یہ …

سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں (فراق گورکھ پوری)

سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں لیکن اس ترکِ محبت کا بھروسہ بھی نہیں یہ بھی سچ ہے کہ محبت پہ نہیں میں مجبور یہ بھی سچ  کہ  ہے تِرا حسن کچھ ایسا بھی نہیں دل کی گنتی نہ یگانوں میں نہ بیگانوں میں لیکن اس جلوہ گہِ ناز سے اٹھتا …

رکی رکی سی شبِ مرگ ختم پر آئی (فراق گورکھ پوری)

رکی رکی سی شبِ مرگ ختم پر آئی وہ پو پھٹی وہ نئی زندگی نظر آئی یہ موڑ وہ ہے کہ پرچھائیں بھی دیں گی نہ ساتھ مسافروں سے کہو اس کی راہگزر آئی فضا تبسمِ صبحِ بہار تھی لیکن پہنچ کے منزلِ جاناں پہ آنکھ بھر آئی کہیں زمان و مکاں میں ہے نام …

بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں (فراق گورکھ پوری)

بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں طبیعت اپنی گھبراتی ہے جب سنسان راتوں میں ہم ایسے میں تِری یادوں کی چادر تان لیتے ہیں جسے صورت بتاتے ہیں پتہ دیتی ہے سیرت کا عبارت دیکھ کر جس طرح معنی جان لیتے ہیں …

آج بھی قافلئہ عشق رواں ہے کہ جو تھا (فراق گورکھ پوری)

آج بھی قافلئہ عشق رواں ہے کہ جو تھا وہی میل اور وہی سنگِ نشاں ہے  کہ جو تھا آج بھی کام محبت کے بہت نازک ہیں دل وہی کارگہِ شیشہ گراں ہے کہ جو تھا قرب ہی کم ہے نہ دوری ہی زیادہ لیکن آج وہ ربط کا احساس کہاں ہے کہ جو تھا …

نیرنگِ حُسنِ یار ترے بس میں کیا نہیں (فراق گورکھپوری)

نیرنگِ حُسنِ یار ترے بس میں کیا نہیں لطف و کرم تو مانعِ جور و جفا نہیں جِن کی صداےٓ درد سے نیندیں حرام تھیں نالے اب اُن کے بند ہیں تُو نے سنا نہیں نیرنگیِ اُمیدِ کرم اُن سے پوچھیے جن کو جفاےٓ یار کا بھی آسرا نہیں میرے سکوتِ ناز پہ اتنا نہ …

ہجر و وصالِ یار کا پردہ اُٹھا دیا (فراق گورکھپوری)

ہجر و وصالِ یار کا پردہ اُٹھا دیا خود بڑھ کے عِشق نے مجھے میرا پتا دیا گرد و غُبارِ ہستیِ فانی اُڑا دیا اے کیمیائے عِشق مجھے کیا بَنا دیا وہ سامنے ہے اور نَظر سے چُھپا دیا اے عِشقِ بے حجاب مجھے کیا دِکھا دِیا وہ شانِ خامشی کہ بہاریں ہیں مُنتظر وہ …

دیتے ہیں جام شہادت مجھے معلوم نہ تھا (فراق گورکھپوری)

دیتے ہیں جام شہادت مجھے معلوم نہ تھا ہے یہ آئین محبت مجھے معلوم نہ تھا مطلب چشم مروت مجھے معلوم نہ تھا تجھ کو مجھ سے تھی شکایت مجھے معلوم نہ تھا چشم خاموش کی بابت مجھے معلوم نہ تھا یہ بھی ہے حرف و حکایت مجھے معلوم نہ تھا عشق بس میں ہے …

تُم تو چُپ رہنے کو بھی رنجشِ بے جا سمجھے (فراق گورکھپوری)

تُم تو چُپ رہنے کو بھی رنجشِ بے جا سمجھے درد کو درد نہ سمجھے تو کوئی کیا سمجھے جب تِری یاد نہ تھی، جب تِرا احساس نہ تھا ہم تو اُس کو بھی مُحبّت کا زمانہ سمجھے تیرے وارفتہء وحشت کی ہے دُنیا ہی کچھ اور وہ گُلستاں، نہ وہ زِنداں، نہ وہ صحرا …