Category «قمر جلالوی»

کِس یاس سے مرے ہیں مریض اِنتظار کے (قمر جلالوی)

کِس یاس سے مرے ہیں مریض اِنتظار کے قاتل کو یاد کر کے ، قضا کو پُکار کے ۔ مقتل میں حال پُوچھو نہ مجھ بے قرار کے تم اپنے گھر کو جاؤ چُھری پھیر پھار کے رُکتی نہیں ہے گردشِ ایّام کی ہنسی لے آنا طاق سے مِرا ساغر اُتار کے جی ہاں! شراب …

سب نے کئے ہیں باغ میں اُن پر نِثار پُھول

سب نے کئے ہیں باغ میں اُن پر نِثار پُھول اے سرو آ تُجھے میں دِلا دُوں اُدھار پُھول لاتا نہیں کوئ مِری تُربت پہ چار پُھول ناپید ایسے ہو گئے پروردگار پُھول جاتی نہیں شباب میں بھی کم سِنی کی بُو ہاروں میں اُن کے چار ہیں کلیاں تو چار پُھول کب حلق کٹ …

دونوں ہیں ان کے ہجر کا حاصل لیئے ہوئے (قمر جلالوی)

دونوں ہیں ان کے ہجر کا حاصل لیئے ہوئے دل کو ہے درد ،درد کو ہے دل لیئے ہوئے دیکھا خدا پہ چھوڑ کہ کشتی کو نا خدا جیسے خود آگیا کوئی ساحل لیئے ہوئے دیکھ ہمارے صبر کی ہمت نہ ٹوٹ جائے تم رات دن ستاؤ مگر دل لیئے ہوئے وہ شب بھی یاد …

ترےنثار نہ دیکھی کوئی خوشی میں نے (قمر جلالوی)

ترےنثار نہ دیکھی کوئی خوشی میں نے کہ اب تو موت کو سمجھا ہے زندگی میں نے یہ دل میں سوچ کے توبہ بھی توڑ دی میں نے نہ جانے کیا کہے ساقی اگر نہ پی میں نے کوئی بلا مرے سر پر ضرور آئے گی کہ تیری زلفِ پریشاں سنوار دی میں نے سحر …

تاثیر پسِ مرگ دِکھائی ہے وفا نے (قمر جلالوی)

تاثیر پسِ مرگ دِکھائی ہے وفا نے جو مجھ پہ ہنسا کرتے تھے، روتے ہیں سرہانے کیا کہہ دیا چُپکے سے، نہ معلوُم قضا نے کروَٹ بھی نہ بدلی تِرے بیمارِ جفا نے ہستی مِری، کیا جاؤں مَیں اُس بت کو منانے وہ ضِد پہ جو آئے تو فَرِشتوں کی نہ مانے اَوراقِ گُلِ تر، …