Category «قمر جلالوی»

سب نے کئے ہیں باغ میں اُن پر نِثار پُھول

سب نے کئے ہیں باغ میں اُن پر نِثار پُھول اے سرو آ تُجھے میں دِلا دُوں اُدھار پُھول لاتا نہیں کوئ مِری تُربت پہ چار پُھول ناپید ایسے ہو گئے پروردگار پُھول جاتی نہیں شباب میں بھی کم سِنی کی بُو ہاروں میں اُن کے چار ہیں کلیاں تو چار پُھول کب حلق کٹ …

ترےنثار نہ دیکھی کوئی خوشی میں نے (قمر جلالوی)

ترےنثار نہ دیکھی کوئی خوشی میں نے کہ اب تو موت کو سمجھا ہے زندگی میں نے یہ دل میں سوچ کے توبہ بھی توڑ دی میں نے نہ جانے کیا کہے ساقی اگر نہ پی میں نے کوئی بلا مرے سر پر ضرور آئے گی کہ تیری زلفِ پریشاں سنوار دی میں نے سحر …