Category «منیر شکوہ آبادی»

دور سے بھی کبھی ملنے کے اشارے نہ ہوئے (منیر شکوہ آبادی)

دور سے بھی کبھی ملنے کے اشارے نہ ہوئے ہم کہیں کے نہ رہے تم جو ہمارے نہ ہوئے مجھ سے لپٹے رہے، کی غیر کی جانب داری مثلِ دریا کبھی تم ایک کنارے نہ ہوئے نہ کیا وصل کا اقرار کبھی بھولے سے ہم تو کہنے کو بھی ممنون تمہارے نہ ہوئے

آئنہ کے عکس سے گل سا بدن میلا ہوا (منیر شکوہ آبادی)

آئنہ کے عکس سے گل سا بدن میلا ہوا صبح کے پرتو سے رنگِ یاسمن میلا ہوا ہو گیا نامِ کدورت بھی لطافت کے خلاف عطر مٹی کا لگایا پیرہن میلا ہوا ملگجے کپڑے پسینے میں معطر ہو گئے عطر میں دھویو گیا جو پیرہن میلا ہوا شیشئہ ساعت کی کیفیت دکھائی یار نے دل …

تُو ہے تو تِرے طالبِ دیدار بہت ہیں (منیر شکوہ آبادی)

تُو ہے تو تِرے طالبِ دیدار بہت ہیں یوسف ہے سلامت تو خریدار بہت ہیں پھر جائے خدائی تو بتوں سے نہ پھریں ہم پتھر میں بھی اللہ کے اسرار بہت ہیں وحدت کے طلب گاروں کو کثرت سے علاقہ میں ایک ہوں، تو ایک ہے، اغیار بہت ہیں باہر نہیں اس سلسہ سے اہلِ …