Category «مومن خان مومن»

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو (مومن خان مومن)

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہ جو لطف  مجھ پہ تھے پیشتر وہ کرم کہ تھا مِرے حال پر مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہ …

ہے دل میں غبار اس کے گھر اپنا نہ کریں گے (مومن خان مومن)

ہے دل میں غبار اس کے گھر اپنا نہ کریں گے ہم خاک میں ملنے کی تمنا نہ کریں گے کیونکر یہ کہیں منت اعدا نہ کریں گے کیا کیا نہ کیا عشق میں کیا کیا نہ کریں گے ہنس ہنس کے وہ مجھ سے ہی مرے قتل کی باتیں اس طرح سے کرتے ہیں …

ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم (مومن خان مومن)

ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم پر کیا کریں کہ ہو گئے ناچار جی سے ہم ہنستے جو دیکھتے ہیں کسی کو کسی سے ہم منہ دیکھ دیکھ روتے ہیں کس بیکسی سے ہم ہم سے نہ بولو تم اسے کیا کہتے ہیں بھلا انصاف کیجے پوچھتے ہیں آپ ہی …

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا (مومن خان مومن)

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا رنج راحت فزا نہیں ہوتا تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا تم میرے پاس ہوتے ہو گویا جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا حالِ دل یار کو لکھوں کیوں کر ہاتھ دل سے جدا نہیں ہوتا چارۃ دل سوائے صبر نہیں سو تمہارے سوا …