Category «میرتقی میر»

زخم جھیلے داغ بھی کھائے بہت (میر تقی میر)

زخم جھیلے داغ بھی کھائے بہت دل لگا کر ہم تو پچھتائے بہت جب نہ تب جگہ سے تم جایا کیے ہم تو اپنی اور سے آئے بہت دیر سے سوئے حرم آیا نہ ٹُک ہم مزاج اپنا ادھر لائے بہت پھول، گل، شمس و قمر سارے ہی تھے پر ہمیں ان میں تمہیں بھائے …

غصے سے اٹھ چلے ہو تو دامن کو جھاڑ کر (میر تقی میر)

غصے سے اٹھ چلے ہو تو دامن کو جھاڑ کر جاتے رہیں گے ہم بھی گریباں پھاڑ کر دل وہ نگر نہیں کہ پھر آباد ہو سکے پچھتاؤ گے سنو ہو یہ بستی اجاڑ کر یا رب رہِ طلب میں کوئی کب تلک پھرے تسکیں دے کہ بیٹھ رہوں پاؤں گاڑ کر منظور ہو نہ …

کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق (میر تقی میر)

کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق جاں کا روگ ہے بلا ہے عشق عشق ہی عشق ہے جہاں دیکھو سارے عالم میں بھر رہا ہے عشق عشق ہے طرز و طور عشق کے تیں کہیں بندہ کہیں خدا ہے عشق عشق معشوق عشق عاشق ہے یعنی اپنا ہی مبتلا ہے عشق گر …

کیسی وفا و اُلفت، کھاتے عبث ہو قسمیں (میر تقی میر)

کیسی وفا و اُلفت، کھاتے عبث ہو قسمیں مدت ہوئی اٹھا دیں تم نے یہ ساری رسمیں ساون تو اب کے ایسا برسا نہیں، جو کہیے روتا رہا ہوں میں ہی دن رات اس برس میں گھبرا کے یوں لگے ہے سینے میں دل تڑپنے جیسے اسیرِ تازہ بے تاب ہو قفس میں جاں کاہ …

یارنے ہم سے بے ادائی کی(میر تقی میر)

یار نے ہم سے بے ادائی کی  وصل کی رات میں لڑائی کی  بال و پر بھی گئے بہار کے ساتھ  اب توقع نہیں رہائی کی  کلفت رنج عشق کم نہ ہوئی  میں دوا کی بہت شفائی کی  طرفہ رفتار کے ہیں رفتہ سب  دھوم ہے اس کی رہ گرائی کی  خندۂ یار سے طرف …

بیٹھا ہوں جوں غبار ضعیف اب وگرنہ میں (میر تقی میر)

بیٹھا ہوں جوں غبار ضعیف اب وگرنہ میں پھرتا رہا ہوں گلیوں میں آوارہ گرد سا قصدِ طریقِ عشق کیا سب نے بعد قیس لیکن ہوا نہ ایک بھی اُس رہ نورد سا کیا میر ہے یہی جو ترے در پہ تھا کھڑا نم ناک چشم و خشک لب و رنگ زرد سا کس شام …

اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا (میر تقی میر)

اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا  لوہو آتا ہے جب نہیں آتا ہوش جاتا نہیں رہا لیکن  جب وہ آتا ہے تب نہیں آتا صبر تھا ایک مونس ہجراں  سو وہ مدت سے اب نہیں آتا دل سے رخصت ہوئی کوئی خواہش  گریہ کچھ بے سبب نہیں آتا عشق کو حوصلہ ہے شرط ورنہ  بات …

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے ( میر تقی میر)

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے لگنے نہ دے بس ہو تو اس کے گوہر گوش کا بالے تک اس کو فلک چشمِ مہ و خور کی پتلی کا تارا جانے ہے چارہ گری بیمارئ دل کی رسمِ شہرِ حسن نہیں …

بارہا گورِ دل جھنکا لایا (میر تقی میر)

بارہا گورِ دل جھنکا لایا اب کے شرطِ وفا بجا لایا قدر رکھتی نہ تھی متاعِ دل سارے عالَم میں مَیں دِکھا لایا دل کہ اِک قطرہ خوُں نہیں ہے بیش ایک عالم کے سر بلا لایا سب پہ جس بار نے گرانی کی اُس کو یہ ناتواں اُٹھا لایا دل مجھے اُس گلی میں …

یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں (میر تقی میر)

  یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں اب دو تو جام خالی ہی دو میں نشے میں ہوں   ایک ایک فرطِ دور میں مجھے بھی دو جامِ شراب پُر نہ کرو میں نشے میں ہوں   مستی سے درہمی ہے میری گفتگو کے بیچ جو چاہو تم بھی مجھ سے کہو،  میں …