Category «میرتقی میر»

فقیرانہ آئے صدا کر چلے (میر تقی میر)

فقیرانہ آئے صدا کر چلے میان خوش رہو ہم دعا کر چلے جو تجھ بن نہ جینے کو کہتے تھے ہم سو اِس عہد کو اب وفا کر چلے شفا اپنی تقدیر ہی میں نہ تھی کہ مقدور تک تو دوا کر چلے بہت آرزو تھی گلی کی تِری سو یاں سے لہو میں نہا …

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاج وری کا (میر تقی میر)

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاج وری کا کل اُس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت اسباب لٹا راہ میں یاں ہر سفری کا زنداں میں بھی شورش نہ گئی اپنے جنوں کی اب سنگ مداوا ہے اس اشفتہ سری کا اپنی تو جہاں …

جو تو ہی صنم ہم سے بے زار ہو گا (میر تقی میر)

جو تو ہی صنم ہم سے بے زار ہو گا تو جینا ہمیں اپنا دشوار ہو گا غمِ ہجر رکھے گا بے تاب دل کو ہمیں کڑھتے کڑھتے کچھ آزار ہو گا جو افراطِ الفت ہے ایسا تو عاشق کوئی دن میں برسوں کا بیمار ہو گا اچٹتی ملاقات کب تک رہے گی کبھو تو …

باتیں ہماری یاد رہیں گی باتیں نہ ایسی سنیے گا (میر تقی میر)

باتیں ہماری یاد رہیں گی باتیں نہ ایسی سنیے گا پڑھتے کسو کو سنیے گا تو دیر تلک سر دھنیے گا سعی و تلاش بہت سی رہے گی اس انداز کے کہنے کی صحبت میں علماء فضلاء کی جاکر پڑھیے گا گنیے گا دل کی تسلی جب کہ ہوگی گفت و شنود سے لوگوں کی …

رہی نہ گفتہ مرے دل میں داستاں میری (میر تقی میر)

رہی نہ گفتہ مرے دل میں داستاں میری نہ اس دیار میں سمجھا کوئی زباں میری بہ رنگِ صوتِ جرس تجھ سے دور ہوں تنہا خبر نہیں ہے تجھے آہ کارواں میری اُسی سے دور رہا اصل مدعا جو تھا گئی یہ عمرِ عزیزیز آہ رائگاں میری ترے فراق میں جیسے خیال مفلس کا گئی …

زخم جھیلے داغ بھی کھائے بہت (میر تقی میر)

زخم جھیلے داغ بھی کھائے بہت دل لگا کر ہم تو پچھتائے بہت جب نہ تب جگہ سے تم جایا کیے ہم تو اپنی اور سے آئے بہت دیر سے سوئے حرم آیا نہ ٹُک ہم مزاج اپنا ادھر لائے بہت پھول، گل، شمس و قمر سارے ہی تھے پر ہمیں ان میں تمہیں بھائے …

غصے سے اٹھ چلے ہو تو دامن کو جھاڑ کر (میر تقی میر)

غصے سے اٹھ چلے ہو تو دامن کو جھاڑ کر جاتے رہیں گے ہم بھی گریباں پھاڑ کر دل وہ نگر نہیں کہ پھر آباد ہو سکے پچھتاؤ گے سنو ہو یہ بستی اجاڑ کر یا رب رہِ طلب میں کوئی کب تلک پھرے تسکیں دے کہ بیٹھ رہوں پاؤں گاڑ کر منظور ہو نہ …

کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق (میر تقی میر)

کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق جاں کا روگ ہے بلا ہے عشق عشق ہی عشق ہے جہاں دیکھو سارے عالم میں بھر رہا ہے عشق عشق ہے طرز و طور عشق کے تیں کہیں بندہ کہیں خدا ہے عشق عشق معشوق عشق عاشق ہے یعنی اپنا ہی مبتلا ہے عشق گر …

کیسی وفا و اُلفت، کھاتے عبث ہو قسمیں (میر تقی میر)

کیسی وفا و اُلفت، کھاتے عبث ہو قسمیں مدت ہوئی اٹھا دیں تم نے یہ ساری رسمیں ساون تو اب کے ایسا برسا نہیں، جو کہیے روتا رہا ہوں میں ہی دن رات اس برس میں گھبرا کے یوں لگے ہے سینے میں دل تڑپنے جیسے اسیرِ تازہ بے تاب ہو قفس میں جاں کاہ …

یارنے ہم سے بے ادائی کی(میر تقی میر)

یار نے ہم سے بے ادائی کی  وصل کی رات میں لڑائی کی  بال و پر بھی گئے بہار کے ساتھ  اب توقع نہیں رہائی کی  کلفت رنج عشق کم نہ ہوئی  میں دوا کی بہت شفائی کی  طرفہ رفتار کے ہیں رفتہ سب  دھوم ہے اس کی رہ گرائی کی  خندۂ یار سے طرف …