Category «کلیم عاجز»

چمن اپنا لٹا کر بلبلِ ناشاد نکلی ہے (کلیم عاجز)

چمن اپنا لٹا کر بلبلِ ناشاد نکلی ہے مبارکباد، تیری آرزو صیاد نکلی ہے خدا رکھے سلامت تیری چشمِ بے مروت کو بڑی بے درد نکلی ہے بڑی جلاد نکلی ہے نکل کر دل سے آہوں نے کہیں رتبہ نہیں پایا چمن سے جب بھی نکلی بوئے گل، برباد نکلی ہے لبِ بام آکے تم …

امتحانِ شوق میں ثابت قدم ہوتا نہیں (کلیم عاجز)

امتحانِ شوق میں ثابت قدم ہوتا نہیں عشق جب تک واقفِ آدابِ غم ہوتا نہیں ان کی خاطر سے کبھی ہم مسکرا اٹھے تو کیا مسکرا لینے سے دل کا درد کم ہوتا نہیں تم جہاں ہو بزم بھی ہے شمع بھی پروانہ بھی ہم جہاں ہوتے ہیں یہ ساماں بہم ہوتا نہیں رات بھر …

ہر چوٹ پہ پوچھے ہے بتا یاد رہے گی (کلیم عاجز)

ہر چوٹ پہ پوچھے ہے بتا یاد رہے گی ہم کو یہ زمانے کی ادا یاد رہے گی دن رات کے آنسو، سحر وشام کی آہیں اس باغ کی یہ آب و ہوا یاد رہے گی کس دھوم سے بڑھتی ہوئی پہنچی ہے کہاں تک دنیا کو تری زلفِ رسا یاد رہے گی کرتے رہیں …

تلخیاں اس میں بہت کچھ ہیں مزہ کچھ بھی نہیں (کلیم عاجز)

تلخیاں اس میں بہت کچھ ہیں مزہ کچھ بھی نہیں زندگی دردِ محبت کے سوا کچھ بھی نہیں شمع خاموش بھی رہتے ہوئے خاموش کہاں اس طرح کہہ دیا سب کچھ کہ کہا کچھ بھی نہیں ہم گدایانِ محبت کا یہی سب کچھ ہے گر چہ دنیا یہی کہتی ہے وفا کچھ بھی نہیں یہ …