جب کبھی خواب کی امید بندھا کرتی ہے (جمال احسانی)

جب کبھی خواب کی امید بندھا کرتی ہے نیند آنکھوں میں پریشاں پھرا کرتی ہے یاد رکھنا ہی محبت میں نہیں ہے سب کچھ بھول جانا بھی بڑی بات ہوا کرتی ہے دیکھ بے چارگئی کوئے محبت کوئی دم سائے کے واسطے دیوار دعا کرتی ہے صورتِ دل بڑے شہروں میں رہی یک طرفہ جانے …

اتنے خاموش بھی رہا نہ کرو (منیر نیازی)

اتنے خاموش بھی رہا نہ کرو غمِ جدائی میں یوں کیا نہ کرو خواب ہوتے ہیں دیکھنے کے لئے ان میں جا کر مگر رہا نہ کرو کچھ نہ ہو گا گلہ بھی کرنے سے ظالموں سے گلہ کیا نہ کرو ان سے نکلیں حکائتیں شاید حرف لکھ کر مٹا دیا نہ کرو اپنے رتبے …

وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں (خمار بارہ بنکوی)

وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں جنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیں وہ ہیں پاس اور یاد آنے لگے ہیں محبت کے ہوش اب ٹھکانے لگے ہیں سنا ہے ہمیں وہ بھلانے لگے ہیں تو کیا ہم انہیں یاد آنے لگے ہیں ہٹائے تھے جو راہ سے دوستوں کی وہ پتھر مرے گھر آنے …

تم نغمہِ ماہ ہو، انجم ہو، تم سوزِ تمنا کیا جانو (رضی اختر شوق)

تم نغمہِ ماہ ہو، انجم ہو، تم سوزِ تمنا کیا جانو تم دردِ محبت کیا سمجھو، تم دل کا تڑپنا کیا جانو سو بار اگر تم روٹھ گئے، ہم تم کو منا ہی لیتے تھے ایک بار اگر ہم روٹھ گئے، تم ہم کو منانا کیا جانو تخریبِ محبت آسان ہے، تعمیرِ محبت مشکل ہے …

چمن اپنا لٹا کر بلبلِ ناشاد نکلی ہے (کلیم عاجز)

چمن اپنا لٹا کر بلبلِ ناشاد نکلی ہے مبارکباد، تیری آرزو صیاد نکلی ہے خدا رکھے سلامت تیری چشمِ بے مروت کو بڑی بے درد نکلی ہے بڑی جلاد نکلی ہے نکل کر دل سے آہوں نے کہیں رتبہ نہیں پایا چمن سے جب بھی نکلی بوئے گل، برباد نکلی ہے لبِ بام آکے تم …

امتحانِ شوق میں ثابت قدم ہوتا نہیں (کلیم عاجز)

امتحانِ شوق میں ثابت قدم ہوتا نہیں عشق جب تک واقفِ آدابِ غم ہوتا نہیں ان کی خاطر سے کبھی ہم مسکرا اٹھے تو کیا مسکرا لینے سے دل کا درد کم ہوتا نہیں تم جہاں ہو بزم بھی ہے شمع بھی پروانہ بھی ہم جہاں ہوتے ہیں یہ ساماں بہم ہوتا نہیں رات بھر …

کیا غم ہے اگر شکوۃ غم عام ہے پیارے (کلیم عاجز)

کیا غم ہے اگر شکوۃ غم عام ہے پیارے تو دل کو دکھا ، تیرا یہی کام ہے پیارے تیرے ہی تبسم کا سحر نام ہے پیارے تو کھول دے گیسو تو بھری شام ہے پیارے جب پیار کیا ، چین سے کیا کام ہے پیارے اس میں تو تڑپنے ہی میں آرام ہے پیارے …

ہر چوٹ پہ پوچھے ہے بتا یاد رہے گی (کلیم عاجز)

ہر چوٹ پہ پوچھے ہے بتا یاد رہے گی ہم کو یہ زمانے کی ادا یاد رہے گی دن رات کے آنسو، سحر وشام کی آہیں اس باغ کی یہ آب و ہوا یاد رہے گی کس دھوم سے بڑھتی ہوئی پہنچی ہے کہاں تک دنیا کو تری زلفِ رسا یاد رہے گی کرتے رہیں …

تلخیاں اس میں بہت کچھ ہیں مزہ کچھ بھی نہیں (کلیم عاجز)

تلخیاں اس میں بہت کچھ ہیں مزہ کچھ بھی نہیں زندگی دردِ محبت کے سوا کچھ بھی نہیں شمع خاموش بھی رہتے ہوئے خاموش کہاں اس طرح کہہ دیا سب کچھ کہ کہا کچھ بھی نہیں ہم گدایانِ محبت کا یہی سب کچھ ہے گر چہ دنیا یہی کہتی ہے وفا کچھ بھی نہیں یہ …

اگر مرتے ہوئے لب پر نہ تیرا نام آئے گا (شاد عظیم آبادی)

اگر مرتے ہوئے لب پر نہ تیرا نام آئے گا تو میں مرنے سے درگزرا مِرے کس کام آئے گا عطا کی جب کہ خود پیرِ مغاں نے پی بھی لے زاہد یہ کیسا سوچنا ہے تجھ پہ کیوں الزام آئے گا شبِ ہجراں کی سختی ہو تو لیکن یہ کیا کم ہے کہ لب …