Monthly archives: November, 2019

میا! مت رو (منصورہ احمد)

میا! مت رو میا! مت رو کالی رات ہے ناگن جیسی ڈسنے والی بیراگی سناٹے اوڑھے سونے والی میا! مت رو ایسی گھور اندھیری رات میں مت رو تو جانے کیوں یہ سمجھی ہے تیرے آنسو ناگن رات کو پتھرانے سے روک سکیں گے میا! سسکی دھیرے سے لے دیواروں کے اندر باہر آوازوں پر …

مجھے رخصت کرو (منصورہ احمد)

مجھے رخصت کرو مجھے رخصت کرو کسی انجان وادی کی کسی بے نام کٹیا میں مری پہچان رکھی ہے مجھے اس تک پہنچنا ہے یہ حرفِ معذرت کیسا کہ تم میری بہت لمبی مسافت کا پڑاؤ تھے مجھے آگے نکلنا ہے کسی انجان وادی کی کسی بے نام کٹیا میں مجھے منزل بلاتی ہے مجھے …

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو (مومن خان مومن)

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہ جو لطف  مجھ پہ تھے پیشتر وہ کرم کہ تھا مِرے حال پر مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہ …

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا (مومن خان مومن)

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا رنج راحت فزا نہیں ہوتا تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا تم میرے پاس ہوتے ہو گویا جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا حالِ دل یار کو لکھوں کیوں کر ہاتھ دل سے جدا نہیں ہوتا چارۃ دل سوائے صبر نہیں سو تمہارے سوا …

نظر فریب نظاروں کو آگ لگ جائے (ناز خیالوی)

نظر فریب نظاروں کو آگ لگ جائے مری دعا ہے بہاروں کو آگ لگ جائے خوشی کو چھین لیں، مشکل میں کام آ نہ سکیں یہی ہیں یار تو یاروں کو آگ لگ جائے پناہیں دامنِ طوفاں میں مل گئیں مجھ کو مری بلا سے کناروں کو آگ لگ جائے جلا رہے ہیں مجھے بے …

دیکھتے ہو جو روز خواب میں خواب (ناز خیالوی)

دیکھتے ہو جو روز خواب میں خواب ڈال دیں گے تمہیں عذاب میں خواب خواب میں ماہتاب دیکھتے ہیں کیسے دیکھیں گے ماہتاب میں خواب ہم حقیقت پرست رندوں نے گھول کر پی لئے شراب میں خواب عکس دیکھو ذرا ستاروں کے جیسے اترے ہوئے ہوں آب میں خواب ان سے صرفِ نظر کروں کیسے …

تمہاری راہگزر سے گزر کے دیکھتے ہیں (ناز خیالوی)

تمہاری راہگزر سے گزر کے دیکھتے ہیں پھر اس کے بعد نتیجے سفر کے دیکھتے ہیں یونہی سہی یہ تماشہ بھی کر کے دیکھتے ہیں کوئی سمیٹ ہی لے گا بکھر کے دیکھتے ہیں ہمیں ہواؤں کے تیور جو دیکھنے ہوں کبھی چراغِ جاں کو ہتھیلی پہ دھر کے دیکھتے ہیں ملال یہ ہے کہ …

اہل دِل خواب ہوئے (ناز خیالوی)

اہل دِل خواب ہوئے سخت نایاب ہوئے آپ کو یاد کیا جب بھی بے تاب ہوئے بارشیں خوب ہوئیں خشک تالاب ہوئے دھول شہروں میں اڑی دشت سیراب ہوئے غم کی جاگیر ملی ہم بھی نواب ہوئے پھول مرجھائے رہے خار شاداب ہوئے

یاد آتا ہے روز و شب کوئی (ناصر کاظمی)

یاد آتا ہے روز و شب کوئی ہم سے روٹھا ہے بے سبب کوئی لبِ جُو چھاؤں میں درختوں کی وہ ملاقات تھی عجب کوئی جب تجھے پہلی بار دیکھا تھا وہ بھی تھا موسمِ طرب کوئی کچھ خبر لے کے تیری محفل سے دور بیٹھا ہے جاں بلب کوئی نہ غمِ زندگی نہ دردِ …

ﻭﮦ ﺍِﺱ ﺍﺩﺍ ﺳﮯ ﺟﻮ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﯾُﻮﮞ ﺑَﮭﻼ ﻧﮧ ﻟﮕﮯ (ناصر کاظمی)

ﻭﮦ ﺍِﺱ ﺍﺩﺍ ﺳﮯ ﺟﻮ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﯾُﻮﮞ ﺑَﮭﻼ ﻧﮧ ﻟﮕﮯ ﮨﺰﺍﺭ ﺑﺎﺭ ﻣِﻠﻮ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺁﺷﻨﺎ ﻧﮧ ﻟﮕﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻭﮦ ﺧﺎﺹ ﻋِﻨﺎﯾﺖ ﮐﮧ ﺳَﻮ ﮔُﻤﺎﮞ ﮔُﺰﺭﯾﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﻭﮦ ﻃﺮﺯِ ﺗﻐﺎﻓﻞ، ﮐﮧ ﻣﺤﺮﻣﺎﻧﮧ ﻟﮕﮯ ﻭﮦ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﺳﺎﺩﯼ ﺍﺩﺍﺋﯿﮟ ﮐﮧ ﺑِﺠﻠﯿﺎﮞ ﺑﺮﺳﯿﮟ ﻭﮦ ﺩﻟﺒﺮﺍﻧﮧ ﻣﺮُﻭّﺕ ﮐﮧ ﻋﺎﺷﻘﺎﻧﮧ ﻟﮕﮯ ﺩﮐﮭﺎﺅﮞ ﺩﺍﻍِ ﻣﺤﺒّﺖ ﺟﻮ ﻧﺎﮔﻮﺍﺭ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺳُﻨﺎﺅﮞ …