اس نے جب بھی مجھے دل سے پکارا محسن (محسن نقوی)

اس نے جب بھی مجھے دل سے پکارا محسن میں نے تب تب یہ بتایا کہ تمہارا محسن لوگ صدیوں کی خطاؤں پہ بھی خوش بستے ہیں ہم کو لمحوں کی وفاؤں نے اجاڑا محسن جب ہو گیا یقیں کہ وہ پلٹ کر نہیں آئے گا غم اور آنسو نے دیا دل کو سہارا محسن …

نظر حیران، دل ویران، میرا جی نہیں لگتا (جون ایلیا)

نظر حیران، دل ویران، میرا جی نہیں لگتا بچھڑ کے تم سے میری جان میرا جی نہیں لگتا کوئی بھی تو نہیں ہے جو پکارے راہ میں مجھ کو ہوں میں بے نام اک انسان، میرا جی نہیں لگتا جہاں ملتے تھے ہم تم اور جہاں مل کے بچھڑتے تھے نہ وہ در ہے، نہ …

پاؤں پڑتا ہوا رستہ نہیں دیکھا جاتا (جمال احسانی)

پاؤں پڑتا ہوا رستہ نہیں دیکھا جاتا جانے والے ترا جانا نہیں دیکھا جاتا تیری مرضی ہے جدھر انگلی پکڑ کے لے جا مجھ سے اب تیرے علاوہ نہیں دیکھا جاتا یہ حسد ہے کہ محبت کی اجارہ داری درمیاں اپنا بھی سایہ نہیں دیکھا جاتا تو بھی اے شخص کہاں تک مجھے برداشت کرے …

دنیا کے جور پر نہ ترے التفات پر (عبد الحمید عدم)

دنیا کے جور پر نہ ترے التفات پر میں غور کر رہا ہوں کسی اور بات پر دیکھا ہے جو مسکرا کے اس مہ جبیں نے جوبن سا آگیا ہے ذرا واقعات پر دیتے ہیں حکم خود ہی مجھے بولنے کا آپ پھر ٹوکتے ہیں آپ مجھے بات بات پر میں جانتا تھا تم بڑے …

لمحے لمحے کی نارسائی ہے (جون ایلیا)

لمحے لمحے کی نارسائی ہے زندگی حالتِ جدائی ہے مردِ میداں ہوں اپنی ذات کا میں میں نے سب سے شکست کھائی ہے اک عجب حال ہے کہ اب اس کو یاد کرنا بھی بے وفائی ہے اب یہ صورت ہے جانِ جاں کے تجھے بھولنے میں ہی میری بھلائی ہے خود کو بھولا ہوں …

کیوں ہجر کے شکوے کرتا ہے (حفیظ جالندھری)

کیوں ہجر کے شکوے کرتا ہے کیوں درد کے رونے روتا ہے اب عشق کیا تو صبر بھی کر اس میں تو یہی کچھ ہوتا ہے آغازِ مصیبت ہوتا ہے اپنے ہی دل کی شامت سے آنکھوں میں پھول کھلاتا ہے تلووں میں کانٹے چبھوتا ہے احباب کا شکوہ کیا کیجئے خود ظاہر و باطن …

دوستوں کے نام یاد آنے لگے (عبد الحمید عدم)

دوستوں کے نام یاد آنے لگے تلخ و شیریں جام یاد آنے لگے وقت جوں جوں رائیگاں ہوتا گیا زندگی کو کام یاد آنے لگے پھر خیال اتے ہی شامِ ہجر کا مرمریں اجسام یاد آنے لگے خوبصورت تہمتیں چبھنے لگیں دلنشیں الزام یاد آنے لگے بھولنا چاہا تھا ان کو اے عدم پھر وہ …

مری راتوں کی راحت دن کا اطمینان لے جانا (اعتبار ساجد)

مری راتوں کی راحت دن کا اطمینان لے جانا تمہارے کام آ جائے گا، یہ سامان لے جانا تمہارے بعد کیا رکھنا انا سے واسطہ کوئی تم اپنے ساتھ میرا عمر بھر کا مان لے جانا شکستہ سے کچھ ریزے پڑے ہیں فرش پر، چن لو اگر تم جوڑ سکتے ہو تو یہ گلدان لے …

ہم انہیں وہ ہمیں بھلا بیٹھے (خمار بارہ بنکوی)

ہم انہیں وہ ہمیں بھلا بیٹھے دو گنہ گار زہر کھا بیٹھے حالِ غم کہہ کے غم بڑھا بیٹھے تیر مارے تھے تیر کھا بیٹھے آندھیو جاؤ اب کرو آرام ہم خود اپنا دیا بجھا بیٹھے جی تو ہلکا ہوا مگر یارو رو کے ہم لطفِ غم گنوا بیٹھے بے سہاروں کا حوصلہ ہی کیا …

مجھے حضور کچھ ایسا گمان پڑتا ہے (عبد الحمید عدم)

مجھے حضور کچھ ایسا گمان پڑتا ہے نگاہ سے بھی بدن پر نشان پڑتا ہے جرم کا عزم پنپتا نظر نہیں آتا کہ راستے میں صنم کا مکان پڑتا ہے فقیہِ شہر کو جب کوئی مشغلہ نہ ملے تو نیک بخت گلے میرے آن پرتا ہے ہمیں خبر ہے حصولِ مراد سے پہلے خراب ہونا …