سنا ہے زمیں پر۔۔۔۔۔۔! (محسن نقوی)

!سنا ے زمیں پر۔۔۔۔۔ سُنا ہے    زمیں پر وہی لوگ ملتے ہیں ۔۔۔۔۔جن کو کبھی آسمانوں کے اپس پار روحوں کے میلے میں اِک دوسرے کی محبت ملی ہو۔۔۔۔!  مگر تم کہ میرے لیے نفرتوں کے اندھیرے میں ہنستی ہوئی روشنی ہو !لہو میں رچی !!رگوں میں بسی ہو ہمیشہ سکوتِ شبِ غم میں …

گلاب چہرے پہ مسکراہٹ (امجد اسلام امجد)

ایک لڑکی گلاب چہرے پہ مسکراہٹ  چمکتی آنکھوں میں شوخ جذبے وہ جب بھی کالج کی سیڑھیوں سے سہیلیوں کو لئے اترتی تو ایسے لگتا کہ جیسے دل میں اتر رہی ہو کچھ اس تیقن سے بات کرتی کہ جیسے دنیا اسی کی آنکھوں سے دیکھتی ہو وہ اپنے رستے پہ دل بچھاتی ہوئی  نگاہوں …

کوئی شاخِ تشنہ و خشک جس سے ہری نہ ہو وہ سحاب کیا؟ (م حسن لطیفی)

رشحات کوئی شاخِ تشنہ و خشک جس سے ہری نہ ہو وہ سحاب کیا؟ جو چھلک کے رنگ نہ بھر سکے رگ و ریشہ میں وہ شباب کیا؟ دلِ گمشدہ کو میں ڈھونڈنے کہیں شب کو محوِ جنوں چلا! تو صدا سی آئی یہ سینہ سے  کہ تلاشِ خانہ خراب کیا؟ طرب آفریں سہی رت، …

ایسی راتیں بھی کئی گزری ہیں (محمد دین تاثیر)

سائے ایسی راتیں بھی کئی گزری ہیں جب تِری یاد نہیں آئی ہے درد سینے میں مچلتا ہے مگر لب پہ فریاد نہیں آتی ہے ہر گنہ سامنے آ جاتا ہے جیسے تاریک چٹانوں کی قطار نہ کوئی حیلئہ تیشہ کاری نہ مداوائے رہائی، نہ قرار ایسی راتیں بھی ہیں گزری مجھ پر جب تری …

اسے کہنا دسمبر آ گیا ہے (عرش صدیقی)

اسے کہنا اسے کہنا دسمبر آ گیا ہے دسمبر کے گزرتے ہی برس اک اور ماضی کی گپھا میں ڈوب جائے گا اسے کہنا دسمبر لوت آئے گا مگر جو خون سو جائے گا جسموں میں نہ جائے گا اسے کہنا ہوائیں سرد ہیں اور زندگی کے کہرے دیواروں میں لرزاں ہیں اسے کہنا شگوفے …

روشن بام ہے، چاند اترا ہے ٰاختر حسین جعفری)

روشن بام ہے، چاند اترا ہے خنداں تارے، سرخ رومالوں والے لڑکے، استقبالی محرابوں کے رستے پر سف بستہ ہیں دف پر ضربت، قصر میں نوبت اور میدان میں جلتی گندھک کی چنگاری جب سمٹی تو گھر کی چوکھٹ کے سہرے کا پھول بنی ہے ڈھولک پر اس ساعت کی انگشتِ حنائی جو فاتح ہے …

یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں (ابن انشاء)

یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں تم انشا جی کا نام نہ لو، کیا انشا جی سودائی ہیں؟ ہیں لاکھوں روگ زمانے میں ، کیوں عشق ہے رسوا بے چارا ہیں اور بھی وجہیں وحشت کی،  انسان کو رکھتی ہیں دکھیارا ہاں بے کل بے کل …

مدتوں بعد آئی ہو تم (ادا جعفری)

!تم بھی مدتوں بعد آئی ہو تم اور تمہیں اتنی فرصت کہاں ان کہے حرف بھی سن سکو آرزو کی وہ تحریر بھی پڑھ سکو جو ابھی تک لکھی ہی نہیں جا سکی  اتنی مہلت کہاں میرے باغوں میں جو کھل نہ پائے ابھی ان شگوفوں کی باتیں کرو درد ہی بانٹ لو میرے کن …

اے غمِ دل کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں (اسرار الحق مجاز)

آوارہ شہر کی رات اور میں ناشاد و ناکارا پھروں جگمگاتی جاگتی سڑکوں پہ آوارہ پھروں غیر کی بستی ہے کب تک در بدر مارا پھروں        اے غمِ دل کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں اک محل کی آڑ سے نکلا وہ پیلا ماہتاب جیسے مُلا کا عمامہ ، جیسے بنیے کی کتاب …