Category «شاعری»

دور سے بھی کبھی ملنے کے اشارے نہ ہوئے (منیر شکوہ آبادی)

دور سے بھی کبھی ملنے کے اشارے نہ ہوئے ہم کہیں کے نہ رہے تم جو ہمارے نہ ہوئے مجھ سے لپٹے رہے، کی غیر کی جانب داری مثلِ دریا کبھی تم ایک کنارے نہ ہوئے نہ کیا وصل کا اقرار کبھی بھولے سے ہم تو کہنے کو بھی ممنون تمہارے نہ ہوئے

آئنہ کے عکس سے گل سا بدن میلا ہوا (منیر شکوہ آبادی)

آئنہ کے عکس سے گل سا بدن میلا ہوا صبح کے پرتو سے رنگِ یاسمن میلا ہوا ہو گیا نامِ کدورت بھی لطافت کے خلاف عطر مٹی کا لگایا پیرہن میلا ہوا ملگجے کپڑے پسینے میں معطر ہو گئے عطر میں دھویو گیا جو پیرہن میلا ہوا شیشئہ ساعت کی کیفیت دکھائی یار نے دل …

بدن میں جیسے لہو تازیانہ ہو گیا ہے (عرفان صدیقی)

بدن میں جیسے لہو تازیانہ ہو گیا ہے اسے گلے سے لگائے زمانہ ہو گیا ہے چمک رہا ہے افق تک غبار تیرہ شبی کوئی چراغ سفر پر روانہ ہو گیا ہے ہمیں تو خیر بکھرنا ہی تھا کبھی نہ کبھی ہوائے تازہ کا جھونکا بہانہ ہو گیا ہے غرض کہ پوچھتے کیا ہو مال …

بدن کے دونوں کناروں سے جل رہا ہوں میں (عرفان صدیقی)

بدن کے دونوں کناروں سے جل رہا ہوں میں کہ چھو رہا ہوں تجھے اور پگھل رہا ہوں میں تجھی پہ ختم ہے جاناں مرے زوال کی رات تو اب طلوع بھی ہو جا کہ ڈھل رہا ہوں میں بلا رہا ہے مرا جامہ زیب ملنے کو تو آج پیرہنِ جاں بدل رہا ہوں میں …

اٹھو یہ منطر شب تاب دیکھنے کے لیے (عرفان صدیقی)

اٹھو یہ منطر شب تاب دیکھنے کے لیے کہ نیند شرط نہیں خواب دیکھنے کے لیے عجب حریف تھا میرے ہی ساتھ ڈوب گیا مرے سفینے کو غرقاب دیکھنے کے لیے وہ مرحلہ ہے کہ اب سیل خوں پہ راضی ہیں ہم اس زمیں کو شاداب دیکھنے کے لیے جو ہو سکے تو ذرا شہ …

چپ کے عالم میں وہ تصویر سی صورت اس کی (شہزاد احمد)

چپ کے عالم میں وہ تصویر سی صورت اس کی بولتی ہے تو بدل جاتی ہے رنگت اس کی سیڑھیاں چڑھتے اچانک وہ ملی تھی مجھ کو اس کی آواز میں موجود تھی حیرت اس کی ہاتھ چھو لوں تو لرز جاتی ہے پتے کی طرح وہی ناکردہ گناہوں پہ ندامت اس کی کسی ٹھہری …

کبھی کتابوں میں پھول رکھنا، کبھی درختوں پہ نام لکھنا (حسن رضوی)

کبھی کتابوں میں پھول رکھنا، کبھی درختوں پہ نام لکھنا ہمیں بھی ہے یاد آج تک وہ نظر سے حرف سلام لکھنا وہ چاند چہرے وہ بہکی باتیں سلگتے دن تھے مہکتی راتیں وہ چھوٹے چھوٹے سے کاغذوں پر  محبتوں کے پیام لکھنا گلاب چہروں سے دل لگانا وہ چپکے چپکے نظر ملانا وہ آرزوؤں …

نقش پانی پہ بنایا کیوں تھا (محسن زیدی)

نقش پانی پہ بنایا کیوں تھا جب بنایا تو مٹایا کیوں تھا گئے وقتوں کا ہے اب رونا کیوں آئے وقتوں کو گنوایا کیوں تھا بیٹھ جانا تھا اگر مثل غبار سر پہ طوفان اٹھایا کیوں تھا میری منزل نہ کہیں تھی تو مجھے دشت در دشت پھرایا کیوں تھا وہ نہ ہمدم تھا نہ …

عشق کے شعلے کو بھڑکاؤ کہ کچھ رات کٹے (مخدوم محی الدین )

عشق کے شعلے کو بھڑکاؤ کہ کچھ رات کٹے دل کے انگارے کو دہکاؤ کہ کچھ رات کتے ہجر میں ملنے شبِ ماہ کے غم آئے ہیں چارہ سازوں کو بھی بلواؤ کہ کچھ رات کٹے کوئی جلتا ہی نہیں، کوئی پگھلتا ہی نہیں موم بن جاؤ، پگھل جاؤ کہ کچھ رات کٹے چشم و …

ستاروں سے الجھتا جا رہا ہوں (فراق گورکھپوری)

ستاروں سے الجھتا جا رہا ہوں شب فرقت بہت گھبرا رہا ہوں ترے غم کو بھی کچھ بہلا رہا ہوں جہاں کو بھی سمجھتا جا رہا ہوں یقیں یہ ہے حقیقت کھل رہی ہے گماں یہ ہے کہ دھوکے کھا رہا ہوں اگر ممکن ہو لے لے اپنی آہٹ خبر دو حسن کو میں آ …