Category «افضل خان»

راہ بھولا ہوں مگر یہ مری خامی تو نہیں (افضل خان)

راہ بھولا ہوں مگر یہ مری خامی تو نہیں میں کہیں اور سے آیا ہوں مقامی تو نہیں تیری مسند پہ کوئی اور نہیں آ سکتا یہ مرا دل ہے کوئی خالی آسامی تو نہیں اونچا لہجہ ہے فقط زورِ دلائل کے لیے یہ مری جان، مری تلخ کلامی تو نہیں میں ہمہ وقت محبت …

جو یہ کہتے ہیں کوئی پیشِ نظر ہے ہی نہیں (افضل خان)

جو یہ کہتے ہیں کوئی پیشِ نظر ہے ہی نہیں کون سی ذات کے منکر ہیں، اگر ہے ہی نہیں پھر جو اس شہر میں آنا ہو تو ملنا مجھ سے گھر کا آسان پتہ یہ ہے کہ، گھر ہے ہی نہیں بے ارادہ ہی ترے پاس چلا آیا ہوں کام کچھ ہو تو کہوں …

تیرے رستے میں یوں ہی بیٹھا ہوں فریادی نہیں (افضل خان)

تیرے رستے میں یوں ہی بیٹھا ہوں فریادی نہیں میں محبت میں زیادہ بحث کا عادی نہیں آرہا ہوں دیکھ کر میں بند آنکھوں سے میاں نیند کی دھرتی پہ کوئی خواب کی وادی نہیں یہ محبت کے محل تعمیر کرنا چھوڑ دے میں بھی شہزادہ نہیں ہوں تو بھی شہزادی نہیں تجربے کے طور …

تبھی تو حالِ زبوں نہیں ہے (افضل خان)

تبھی تو حالِ زبوں نہیں ہے یہ عشق میرا جنوں نہیں ہے جو عینی شاہد ہیں ان سے پوچھو یہ واقعہ یوں ہے یوں نہیں ہے ہمارے آنسو میں رنگ مت بھر میاں یہ پانی ہے خوں نہیں ہے گئے وہ دن جب میں سوچتا تھا جو یوں نہیں ہے تو کیوں نہیں ہے بہشت …

بازوؤں ہی میں کوئی دم ہے نہ پتوار میں جان (افضل خان)

بازوؤں ہی میں کوئی دم ہے نہ پتوار میں جان ٹھہرے پانی پہ کھڑی ناؤ کو منجدھار میں جان تجھ کو معلوم ہی کیا قیس نگر کی رونق مجھ کو صحرا میں نہیں ہجر کے بازار میں جان اپنی دم تورٹی سانسیں بھی غزل کو دے دوں یونہی ممکن ہے کہ آئے میرے اشعار میں …