آنکھوں میں اندھیری رین بھی ہے (منیر نیازی)
ایک پہیلی آنکھوں میں اندھیری رین بھی ہے میری ہی طرح بے چین بھی ہے پر اُس کی اپنی شان بھی ہے ہونٹوں پہ عجب مسکان بھی ہے اور منہ میں رنگیلا پان بھی ہے جب دیکھیں تو شرماتی ہے جب چاہیں تو گھبراتی ہے
اردوکےمشہورشعئرا اور ان کاکلام
ایک پہیلی آنکھوں میں اندھیری رین بھی ہے میری ہی طرح بے چین بھی ہے پر اُس کی اپنی شان بھی ہے ہونٹوں پہ عجب مسکان بھی ہے اور منہ میں رنگیلا پان بھی ہے جب دیکھیں تو شرماتی ہے جب چاہیں تو گھبراتی ہے
آمدِ شب دیئے ابھی نہیں جلے درخت بڑھتی تیرگی میں چھپ چلے پرند قافلوں میں ڈھل کے اُڑ چلے ہوا ہزار مرگِ آرزو کا ایک غم لیے چلی پہاڑوں کی سمت رُخ کئے کھُلے سمندروں میں کشتیوں کے بادباں کھلے سوادِ شہر کے کھنڈر گئے دنوں کی …
صبح کی آج جو رنگت ہے وہ پہلے تو نہ تھی کیا خبر آج خراماں سرِ گلزار ہے کون شام گلنار ہوئی جاتی ہے دیکھو تو سہی یہ جو نکلا ہے لئے مشعلِ رخسار، ہے کون رات مہکی ہوئی آئی ہے کہیں سے پوچھو آج بکھرائے ہوئے زلفِ طرح دار ہے کون …
شامِ فراق اب نہ پوچھ ، آئی اور آ کے ٹل گئی دل تھا کہ پھر بہل گیا، جاں تھی کہ پھر سنبھل گئی بزمِ خیال میں ترے حسن کی شمع جل گئی درد کا چاند بجھ گیا ، ہجر کی رات ڈھل گئی جب تجھے یاد کر لیا ، صبح مہک مہک …
نہ گنواؤ ناوکِ نیم کش دلِ ریزہ ریزہ گنوادیا جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو تنِ داغ داغ لٹا دیا مرے چارہ گر کو نوید ہو صفِ دشمناں کو خبر کرو جو وہ قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا دیا کرو کج جبیں پہ سرِ کفن مرے قاتلوں کو گماں …
کوئی عاشق کسی محبوبہ سے یاد کی راہ گزر جس پہ اسی صورت سے مدتیں بیت گئیں ہیں تمہیں چلتے چلتے ختم ہو جائے جو دو چار قدم اور چلو موڑ پڑتا ہے جہاں دشتِ فراموشی کا جس سے آگے نہ کوئی میں ہوں نہ کوئی تم ہو سانس تھامے ہے نگاہیں کہ نہ …
سوچنے دو اک ذرا سوچنے دو اس خیاباں میں جو اس لحظہ بیاباں بھی نہیں کون سی شاخ پہ پھول آئے تھے سب سے پہلے کون بے رنگ ہوئی رنج و تعب سے پہلے اور اب سے پہلے کس گھڑی کون سے موسم میں یہاں خون کا قحط پڑا گل کی شہ رگ پہ …
ملاقات مری ساری دیوار سیہ ہوگئی تا حلقئہ دام راستے بجھ گئے رخصت ہوئے رہ گیر تمام اپنی تنہائی سے گویا ہوئی پھر رات مری ہو نہ ہو آج پھر آئی ہے ملاقات مری اک پتھیلی پہ حنا ، ایک ہتھیلی پہ لہو اک نظر زہر لئے اک نظر میں دارو دیر سے منزلِ …
تری امید ترا انتظار جب سے ہے نہ شب کو دن سے شکایت نہ دن کو شب سے ہے کسی کا درد ہو کرتے ہیں تیرے نام رقم گلہ ہے جو بھی کسی سے ترے سبب سے ہے ہوا ہے جب سے دلِ ناصبور بے قابو کلام تجھ سے نظر کو بڑے …
بلیک آؤٹ جب سے بے نور ہوئی ہیں شمعیں خاک میں ڈھونڈتا پھرتا ہوں نہ جانے کس جا کھو گئیں ہیں مری دونوں آنکھیں تم جو واقف ہو بتاؤ کوئی پہچان مری اس طرح ہے کہ ہر اک رگ میں اتر آیا ہے موج در موج کسی زہر کا قاتل دریا تیرا ارمان، تری …