سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں (فراق گورکھپوری)

سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں لیکن اس ترکِ محبت کا بھروسہ بھی نہیں یہ بھی سچ ہے کہ محبت پہ نہیں میں مجبور یہ بھی سچ  کہ  ہے تِرا حسن کچھ ایسا بھی نہیں دل کی گنتی نہ یگانوں میں نہ بیگانوں میں لیکن اس جلوہ گہِ ناز سے اٹھتا …

مرے غم کے لیے اس بزم میں فرصت کہاں پیدا (میکش اکبر آبادی)

مرے غم کے لیے اس بزم میں فرصت کہاں پیدا یہاں تو ہو رہی ہے داستان سے داستاں پیدا وہی ہے ایک مستی سی وہاں نظروں میں یاں دل میں وہی ہے ایک شورش سی وہاں پنہاں یاں پیدا تو اپنا کارواں لے چل نہ کر غم میرے ذروں کا انہیں ذروں سے ہو جائے …

یہ رنگ و نور بھلا کب کسی کے ہاتھ آئے (میکش اکبر آبادی)

یہ رنگ و نور بھلا کب کسی کے ہاتھ آئے کدھر چلے ہیں اندھیرے یہ ہاتھ پھیلائے خدا کرے کوئی شمعیں لئے چلا آئے دھڑک رہے ہیں مرے دل میں شام کے سائے کہاں وہ اور کہاں میری پر خطر راہیں مگر پھر بھی وہ مرے ساتھ دور تک آئے میں اپنے عہد میں شمعِ …

دور سے بھی کبھی ملنے کے اشارے نہ ہوئے (منیر شکوہ آبادی)

دور سے بھی کبھی ملنے کے اشارے نہ ہوئے ہم کہیں کے نہ رہے تم جو ہمارے نہ ہوئے مجھ سے لپٹے رہے، کی غیر کی جانب داری مثلِ دریا کبھی تم ایک کنارے نہ ہوئے نہ کیا وصل کا اقرار کبھی بھولے سے ہم تو کہنے کو بھی ممنون تمہارے نہ ہوئے

آئنہ کے عکس سے گل سا بدن میلا ہوا (منیر شکوہ آبادی)

آئنہ کے عکس سے گل سا بدن میلا ہوا صبح کے پرتو سے رنگِ یاسمن میلا ہوا ہو گیا نامِ کدورت بھی لطافت کے خلاف عطر مٹی کا لگایا پیرہن میلا ہوا ملگجے کپڑے پسینے میں معطر ہو گئے عطر میں دھویو گیا جو پیرہن میلا ہوا شیشئہ ساعت کی کیفیت دکھائی یار نے دل …

بدن میں جیسے لہو تازیانہ ہو گیا ہے (عرفان صدیقی)

بدن میں جیسے لہو تازیانہ ہو گیا ہے اسے گلے سے لگائے زمانہ ہو گیا ہے چمک رہا ہے افق تک غبار تیرہ شبی کوئی چراغ سفر پر روانہ ہو گیا ہے ہمیں تو خیر بکھرنا ہی تھا کبھی نہ کبھی ہوائے تازہ کا جھونکا بہانہ ہو گیا ہے غرض کہ پوچھتے کیا ہو مال …

بدن کے دونوں کناروں سے جل رہا ہوں میں (عرفان صدیقی)

بدن کے دونوں کناروں سے جل رہا ہوں میں کہ چھو رہا ہوں تجھے اور پگھل رہا ہوں میں تجھی پہ ختم ہے جاناں مرے زوال کی رات تو اب طلوع بھی ہو جا کہ ڈھل رہا ہوں میں بلا رہا ہے مرا جامہ زیب ملنے کو تو آج پیرہنِ جاں بدل رہا ہوں میں …

اٹھو یہ منطر شب تاب دیکھنے کے لیے (عرفان صدیقی)

اٹھو یہ منطر شب تاب دیکھنے کے لیے کہ نیند شرط نہیں خواب دیکھنے کے لیے عجب حریف تھا میرے ہی ساتھ ڈوب گیا مرے سفینے کو غرقاب دیکھنے کے لیے وہ مرحلہ ہے کہ اب سیل خوں پہ راضی ہیں ہم اس زمیں کو شاداب دیکھنے کے لیے جو ہو سکے تو ذرا شہ …

چپ کے عالم میں وہ تصویر سی صورت اس کی (شہزاد احمد)

چپ کے عالم میں وہ تصویر سی صورت اس کی بولتی ہے تو بدل جاتی ہے رنگت اس کی سیڑھیاں چڑھتے اچانک وہ ملی تھی مجھ کو اس کی آواز میں موجود تھی حیرت اس کی ہاتھ چھو لوں تو لرز جاتی ہے پتے کی طرح وہی ناکردہ گناہوں پہ ندامت اس کی کسی ٹھہری …

کبھی کتابوں میں پھول رکھنا، کبھی درختوں پہ نام لکھنا (حسن رضوی)

کبھی کتابوں میں پھول رکھنا، کبھی درختوں پہ نام لکھنا ہمیں بھی ہے یاد آج تک وہ نظر سے حرف سلام لکھنا وہ چاند چہرے وہ بہکی باتیں سلگتے دن تھے مہکتی راتیں وہ چھوٹے چھوٹے سے کاغذوں پر  محبتوں کے پیام لکھنا گلاب چہروں سے دل لگانا وہ چپکے چپکے نظر ملانا وہ آرزوؤں …