نقش پانی پہ بنایا کیوں تھا (محسن زیدی)

نقش پانی پہ بنایا کیوں تھا جب بنایا تو مٹایا کیوں تھا گئے وقتوں کا ہے اب رونا کیوں آئے وقتوں کو گنوایا کیوں تھا بیٹھ جانا تھا اگر مثل غبار سر پہ طوفان اٹھایا کیوں تھا میری منزل نہ کہیں تھی تو مجھے دشت در دشت پھرایا کیوں تھا وہ نہ ہمدم تھا نہ …

عشق کے شعلے کو بھڑکاؤ کہ کچھ رات کٹے (مخدوم محی الدین )

عشق کے شعلے کو بھڑکاؤ کہ کچھ رات کٹے دل کے انگارے کو دہکاؤ کہ کچھ رات کتے ہجر میں ملنے شبِ ماہ کے غم آئے ہیں چارہ سازوں کو بھی بلواؤ کہ کچھ رات کٹے کوئی جلتا ہی نہیں، کوئی پگھلتا ہی نہیں موم بن جاؤ، پگھل جاؤ کہ کچھ رات کٹے چشم و …

ستاروں سے الجھتا جا رہا ہوں (فراق گورکھپوری)

ستاروں سے الجھتا جا رہا ہوں شب فرقت بہت گھبرا رہا ہوں ترے غم کو بھی کچھ بہلا رہا ہوں جہاں کو بھی سمجھتا جا رہا ہوں یقیں یہ ہے حقیقت کھل رہی ہے گماں یہ ہے کہ دھوکے کھا رہا ہوں اگر ممکن ہو لے لے اپنی آہٹ خبر دو حسن کو میں آ …

لوگ کہتے ہیں کہ تو اب بھی خفا ہے مجھ سے (جاں نثار اختر)

لوگ کہتے ہیں کہ تو اب بھی خفا ہے مجھ سے تیری آنکھوں نے تو کچھ اور کہا ہے مجھ سے ہائے اس وقت کو کوسوں کہ دعا دوں یارو جس نے ہر درد مرا چھین لیا ہے مجھ سے دل کا یہ حال کہ دھڑکے ہی چلے جاتا ہے ایسا لگتا ہے کوئی جرم …

بیچ جنگل میں پہنچ کے کتنی حیرانی ہوئی (جمال احسانی)

بیچ جنگل میں پہنچ کے کتنی حیرانی ہوئی اک صدا آئی اچانک جانی پہچانی ہوئی پھر وہی چھت پر اکیلے ہم وہی ٹھنڈی ہوا کتنے اندیشے بڑھے جب رات طوفانی ہوئی ہو گئی دور ان گنت ویراں گزرگاہوں کی کوفت ایک بستی سے گزرنے میں وہ آسانی ہوئی اس نے بارش میں بھی کھڑکی کھول …

قرار دل کو سدا جس کے نام سے آیا (جمال احسانی)

قرار دل کو سدا جس کے نام سے آیا وہ آیا بھی تو کسی اور کام سے آیا کسی نے پوچھا نہیں لوٹتے ہوئے مجھ سے میں آج کیسے بھلا گھر میں شام سے آیا ہم ایسے بے ہنروں میں ہے جو سلیقئہ زیست ترے دیار میں پل بھر قیام سے آیا جو آسماں کی …

کیا کیا دلوں کا خوف چھپانا پڑا ہمیں (جلیل عالی)

کیا کیا دلوں کا خوف چھپانا پڑا ہمیں خود ڈر گئے تو سب کو ڈرانا پڑا ہمیں اک دوسرے سے بچ کے نکلنا محال تھا اک دوسرے کو روند کے جانا پڑا ہمیں اپنے دیے کو چاند بتانے کے واسطے بستی کا ہر چراغ بجھانا پڑا ہمیں وحشی ہوا نے ایسے برہنہ کئے بدن اپنا …

تمہارا کیا ہے تمہیں آساں بہت رستے بدلنا ہے (جلیل عالی)

تمہارا کیا ہے تمہیں آساں بہت رستے بدلنا ہے ہمیں ہر ایک موسم قافلے کے ساتھ چلنا ہے بس اک ڈھلوان ہے جس پر لڑھکتے جا رہے ہیں ہم ہمیں جانے نشیبوں میں کہاں جا کر سنبھلنا ہے ہم اس ڈر سے کوئی سورج چمکنے ہی نہیں دیتے کہ جانے شب کے اندھیاروں سے کیا …

اپنے ہونے سے بھی انکار کئے جاتے ہیں(جلیل عالی)

اپنے ہونے سے بھی انکار کئے جاتے ہیں ہم کہ رستہ ترا ہموار کئے جاتے ہیں روز اب شہر میں سجتے ہیں تجارت میلے لوگ صحنوں کو بھی بازار کئے جاتے ہیں ڈالتے ہیں وہ جو کشکول میں سانسیں گن کر کل کے سپنے بھی گرفتار کئے جاتے ہیں کس کو معلوم یہاں اصل کہانی …

راستہ سوچتے رہنے سے کب بنتا ہے (جلیل عالی)

راستہ سوچتے رہنے سے کب بنتا ہے سر میں سودا ہو تو دیوار میں در بنتا ہے آگ ہی آگ ہو سینے میں تو کیا پھول جھڑیں شعلہ ہوتی ہے زباں لفظ شرر بنتا ہے زندگی سوچ عذابوں میں گزاری ہے میاں ایک دن میں کہاں انداز نظر بنتا ہے مدعی تخت کے آتے ہیں …