Monthly archives: November, 2019

مجھے ایسا لطف عطا کیا، جو ہجر تھا نہ وصال تھا (اعتبار ساجد)

مجھے ایسا لطف عطا کیا، جو ہجر تھا نہ وصال تھا مرے موسموں کے مزاج داں، تجھے میرا کتنا خیال تھا کسی اور چہرے کو دیکھ کر، تری شکل ذہن میں آگئی تیرا نام لے کے ملا اسے، میرے حافظے کا یہ حال تھا کبھی موسموں کے سراب میں، کبھی بام و در کے عذاب …

چھوٹے چھوٹے کئی بے فیض مفادات کے ساتھ (اعتبار ساجد)

چھوٹے چھوٹے کئی بے فیض مفادات کے ساتھ لوگ زندہ ہیں عجب صورت حالات کے ساتھ فیصلہ یہ تو بہرحال تجھے کرنا ہے ذہن کے ساتھ سلگنا ہے کہ جذبات کے ساتھ گفتگو دیر سے جاری ہے نتیجے کے بغیر اک نئی بات نکل آتی ہے ہر بات کے ساتھ اب کے یہ سوچ کے …

یہ وقتِ عصر ہے لہجے میں پیاس شامل کر (احمد عطاءاللہ)

یہ وقتِ عصر ہے لہجے میں پیاس شامل کر دعائے شام میں خالی گلاس شامل کر تُو اپنے وصل کے اس میٹھے لال شربت میں ہماری مان زرا سی کھٹاس شامل کر یہ ریشمی ہمیں گمراہ کرتا ریتا ہے بدن بُنت میں بہت سی کپاس شامل کر ہمارا فیصلہ سابق مثال سے تو نہ ہو …

آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا (احمد فراز)

آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا وقت کا کیا ہے گزرتا ہے گزر جائے گا اتنا مانوس نہ ہو خلوت غم سے اپنی تو کبھی خود کو بھی دیکھے گا تو ڈر جائے گا ڈوبتے ڈوبتے کشتی کو اچھالا دے دوں میں نہیں کوئی تو ساحل پہ اتر جائے گا زندگی …

انہی خوش گمانیوں میں کہیں جان سے بھی نہ جاؤ (احمد فراز)

انہی خوش گمانیوں میں کہیں جان سے بھی نہ جاؤوہ جو چارہ گر نہیں ہے اسے زخم کیوں دکھاؤ یہ اداسیوں کے موسم کہیں رائے گان نا جائیںکسی زخم کو کریدو کسی درد کو جگاؤ وہ کہانیاں ادھوری جو نا ہو سکیں گی پوریانہیں میں بھی کیوں سنائوں انہیں تم بھی کیوں سناؤ ؟ میرے …

بولی خود سر ہوا ایک ذرہ ہے تو (اخترالایمان)

اعتماد بولی خود سر ہوا ایک ذرہ ہے تو یوں اڑا دوں گی میں ، موجِ دریا بڑھی بولی میرے لئے ایک تنکا ہے تو یوں بہادوں گی میں ، آتشِ تند کی ایک لپٹ نے کہا میں جلادوں گی اور زمیں نے کہا میں نگل جاؤں گی میں نے چہرے سے اپنے الٹ دی …

آؤ کہ جشنِ مرگِ محبت منائیں ہم (اخترالایمان)

آخری ملاقات آؤ کہ جشنِ مرگِ محبت منائیں ہم !آتی نہیں کہیں سے دلِ زندہ کی صدا سونے پڑے ہیں کوچہ و بازار عشق کے ہے شمعِ انجمن کا نیا حسن جاں گداز شاید نہیں رہے وہ پتنگوں کے ولولے تازہ نہ رہ سکیں گی روایاتِ دشت و در وہ فتنہ سر گئے جنہیں کانٹے …

اب ترے رُخ پر محبت کی شفق پھولی تو کیا (احمد ندیم قاسمی)

اب ترے رُخ پر محبت کی شفق پھولی تو کیا حسن بر حق ہے ، مگر جب بجھ چکا ہو جی تو کیا جب ترا کہنا ہے ، تو تقدیر کا محکوم ہے تُو نے نفرت کی تو کیا، تُو نے محبت کی تو کیا اب کہاں سے لاؤں وہ آنکھیں جو لذت یاب ہوں …

کیسی وفا و اُلفت، کھاتے عبث ہو قسمیں (میر تقی میر)

کیسی وفا و اُلفت، کھاتے عبث ہو قسمیں مدت ہوئی اٹھا دیں تم نے یہ ساری رسمیں ساون تو اب کے ایسا برسا نہیں، جو کہیے روتا رہا ہوں میں ہی دن رات اس برس میں گھبرا کے یوں لگے ہے سینے میں دل تڑپنے جیسے اسیرِ تازہ بے تاب ہو قفس میں جاں کاہ …

یارنے ہم سے بے ادائی کی(میر تقی میر)

یار نے ہم سے بے ادائی کی  وصل کی رات میں لڑائی کی  بال و پر بھی گئے بہار کے ساتھ  اب توقع نہیں رہائی کی  کلفت رنج عشق کم نہ ہوئی  میں دوا کی بہت شفائی کی  طرفہ رفتار کے ہیں رفتہ سب  دھوم ہے اس کی رہ گرائی کی  خندۂ یار سے طرف …