اب اُن کا کیا بھروسہ، وہ آئیں یا نہ آئیں (جگر مراد آبادی)
اب اُن کا کیا بھروسہ، وہ آئیں یا نہ آئیں آ اے غمِ محبت ! تجھ کو گلے لگائیں بیٹھا ہوں مست و بےخُود، خاموش ہیں فضائیں کانوں میں آ رہی ہیں بُھولی ہوئی صدائیں سب اُن پہ ہیں تصدّق، وہ سامنے تو آئیں اشکوں کی آرزُوئیں، آنکھوں کی اِلتجائیں عُشاق پا رہے ہیں ہر …