Monthly archives: November, 2019

اب اُن کا کیا بھروسہ، وہ آئیں یا نہ آئیں (جگر مراد آبادی)

اب اُن کا کیا بھروسہ، وہ آئیں یا نہ آئیں  آ اے غمِ محبت ! تجھ کو گلے لگائیں بیٹھا ہوں مست و بےخُود، خاموش ہیں فضائیں کانوں میں آ رہی ہیں بُھولی ہوئی صدائیں سب اُن پہ ہیں تصدّق، وہ سامنے تو آئیں اشکوں کی آرزُوئیں، آنکھوں کی اِلتجائیں عُشاق پا رہے ہیں ہر …

یہ مزہ تھا ، نہ خلد میں بھی (جگر مراد آبادی)

یہ مزہ تھا ، نہ خلد میں بھی مجھے قرار ہوتا  جو وہاں بھی آنکھ کھلتی ، یہی انتظار ہوتا میں جنونِ عشق میں یوں ہمہ تن فگار ہوتا کہ مرے لہو سے پیدا اثرِ بہار ہوتا میرے رشکِ بے نہایت کو نہ پوچھ میرے دل سے تجھے تجھ سے بھی چھپاتا، اگر اختیار ہوتا …

نیاز و ناز کے جھگڑے مِٹائے جاتے ہیں (جگر مراد آبادی)

نیاز و ناز کے جھگڑے مِٹائے جاتے ہیں ہم ان میں اور وہ ہم میں سمائے جاتے ہیں یہ نازِ حسن تو دیکھو کہ دل کو تڑپا کر نظر ملاتے نہیں ، مسکرائے جاتے ہیں میں اپنی آہ کے صدقے کہ میری آہ میں بھی تِری نگاہ کے انداز پائے جاتے ہیں رواں دواں لیے …

ممکن نہیں کہ جذبئہ دل کارگر نہ ہو (جگر مراد آبادی)

ممکن نہیں کہ جذبئہ دل کارگر نہ ہو یہ اور بات ہے تمہیں اب تک خبر نہ ہو توہیںِ عشق، دیکھ نہ ہو اے جگر نہ ہو ہو جائے دل کا خوں مگر آنکھ تر نہ ہو لازم خودی کا ہوش بھی ہے بیخودی کے ساتھ کس کی اسے خبر جسے اپنی خبر نہ ہو …

کیا کر گیا اک جلوۃ مستانہ کسی کا (جگر مراد آبادی)

کیا کر گیا اک جلوۃ مستانہ کسی کا رُکتا نہیں زنجیر سے  دیوانہ کسی کا کہتا ہے سرِ حشر یہ دیوانہ کسی کا جنت سے الگ چاہیے ویرانہ کسی کا جس کی نگہِ ناز کے ہم مارے ہوئے ہیں وہ شوخ یگانہ ہے نہ بے گانہ کسی کا بےساختہ آج ان کے بھی آنسو نکل …

کوئی یہ کہہ دے گلشن گلشن (جگر مراد آبادی)

کوئی یہ کہہ دے گلشن گلشن لاکھ بلائیں ، ایک نشیمن کامل رہبر ، قاتل رہ زن دل سا دوست نہ دل سا دشمن آج نہ جانے راز یہ کیا ہے ہجر کی رات اور اتنی روشن علم ہی ٹھہرا علم کا باغی عقل ہی نکلی عقل کی دشمن بیٹھے ہم ہر بزم میں لیکن …

کام آخر جذبئہ بے اختیار آ ہی گیا (جگر مراد آبادی)

کام آخر جذبئہ بے اختیار آ ہی گیا دل کچھ اس صورت سے تڑپا اُن کو پیار آ ہی گیا جب نگاہیں اٹھ گئیں ، اللہ رے معراجِ شوق دیکھتا کیا ہوں وہ جانِ انتظار آ ہی گیا اس طرح خوش ہوں کسی کے وعدۃ فردا پہ میں درحقیقت جیسے مجھ کو اعتبار آ ہی …

زخم وہ دل پہ لگا ہے کہ دکھائے نہ بنے (جگر مراد آبادی)

زخم وہ دل پہ لگا ہے کہ دکھائے نہ بنے اور چاہیں کہ چھپا لیں تو چھپائے نہ بنے ہائے بیچارگئی عشق کہ محفل میں سر جھکائے نہ بنے آنکھ اٹھائے نہ بنے یہ سمجھ لو کہ غمِ عشق کی تکمیل ہوئی ہوش میں آ کے بھی جب ہوش میں آئے نہ بنے کس قدر …

دل گیا رونقِ حیات گئی (جگر مراد آبادی)

دل گیا رونقِ حیات گئی غم گیا ساری کائنات گئی دل دھڑکتے ہی پھر گئی وہ نظر لب تک آئی نہ تھی کہ بات گئی ہاں یہ سرشاریاں جوانی کی آنکھ جھپکی ہی تھی کہ رات گئی مرگِ عاشق تو کچھ نہیں لیکن اک مسیحا نفس کی بات گئی قیدِ ہستی سے کب نجات جگر …

جلوہ بقدر ظرف نظر دیکھتے رہے (جگر مراد آبادی)

جلوہ بقدر ظرف نظر دیکھتے رہے کیا دیکھتے ہم ان کو مگر دیکھتے رہے اپنا ہی عکس پیش نظر دیکھتے رہے آئینہ رو برو تھا جدھر دیکھتے رہے ان کی حریم ناز کہاں اور ہم کہاں نقش و نگار پردہ ء در دیکھتے رہے ایسی بھی کچھ فراق کی راتیں گزر گئیں جیسے انہی کو …