Monthly archives: December, 2020

خواب ہی خواب کب تلک دیکھوں (عبیداللہ علیم)

خواب ہی خواب کب تلک دیکھوں کاش تجھ کو بھی اک جھلک دیکھوں چاندنی کا سماں تھا اور ہم تم اب ستارے پلک پلک دیکھوں جانے تو کس کا ہم سفر ہوگا میں تجھے اپنی جاں تلک دیکھوں بند کیوں ذات میں رہوں اپنی موج بن جاؤں اور چھلک دیکھوں صبح میں دیر ہے تو …

سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں (وصی شاہ)

سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں تری آنکھوں کو پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں تمہارا نام لکھنے کی اجازت چھن گئی جب سے کوئی بھی لفظ لکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں تری یادوں کی خوشبو کھڑکیوں میں رقص کرتی ہے ترے غم میں سلگتا ہوں تو آنکھیں بھیگ …

تو نہیں تو زندگی میں اور کیا رہ جائے گا (افتخار امام صدیقی)

تو نہیں تو زندگی میں اور کیا رہ جائے گا دور تک تنہائیوں کا سلسلہ رہ جائے گا کیجئے کیا گفتگو کیا ان سے مل کر سوچئے دل شکستہ خواہشوں کا ذائقہ رہ جائے گا درد کی ساری تہیں اور سارے گزرے حادثے سب دھواں ہو جائیں گے اک واقعہ رہ جائے گا یہ بھی …

ہم غزل میں ترا چرچا نہیں ہونے دیتے (معراج فیض آبادی)

ہم غزل میں ترا چرچا نہیں ہونے دیتے تیری یادوں کو بھی رسوا نہیں ہونے دیتے کچھ تو ہم خود بھی نہیں چاہتے شہرت اپنی اور کچھ لوگ بھی ایسا نہیں ہونے دیتے عظمتیں اپنے چراغوں کی بچانے کے لیے ہم کسی گھر میں اجالا نہیں ہونے دیتے آج بھی گاؤں میں کچھ کچے مکانوں …

جو کوئے دوست کو جاؤں تو پاسباں کے لیے (مصطفیٰ خان شیفتہ)

جو کوئے دوست کو جاؤں تو پاسباں کے لیے نہیں ہے خواب سے بہتر کچھ ارمغاں کے لیے تمام علت درماندگی ہے قلت شوق تپش ہوئی پر پرواز مرغ جاں کے لیے شریک بلبل و قمری ہیں وہ زبوں فطرت جو بے قرار رہے سیر گلستاں کے لیے امید ہے کہ نباہیں گے امتحاں لے …

کچھ عشق تھا کچھ مجبوری تھی سو میں نے جیون وار دیا (عبیداللہ علیم)

کچھ عشق تھا کچھ مجبوری تھی سو میں نے جیون وار دیا میں کیسا زندہ آدمی تھا اک شخص نے مجھ کو مار دیا اک سبز شاخ گلاب کی تھا اک دنیا اپنے خواب کی تھا وہ ایک بہار جو آئی نہیں اس کے لیے سب کچھ ہار دیا یہ سجا سجایا گھر ساتھی مری …

پھول نےٹہنی سے اڑنے کی کوشش کی (گلزار)

پھول نےٹہنی سے اڑنے کی کوشش کی اک طائر کا دل رکھنے کی کوشش کی کل پھر چاند کا خنجر گھونپ کے سینے میں رات نے میری جاں لینے کی کوشش کی کوئی نہ کوئی رہبر رستہ کاٹ گیا جب بھی اپنی رہ چلنے کی کوشش کی کتنی لمبی خاموشی سے گزرا ہوں ان سے …

اگر تلاش کروں کوئی مل ہی جائے گا (بشیر بدر)

اگر تلاش کروں کوئی مل ہی جائے گا مگر تمہاری طرح کون مجھ کو چاہے گا تمہیں ضرور کوئی چاہتوں سے دیکھے گا مگر وہ آنکھیں ہماری کہاں سے لائے گا نہ جانے کب تری دل پرنئی سی دستک ہو مکان خالی ہوا ہے تو کوئی تو آئے گا میں اپنی راہ میں دیوار بن …