Category «بشیر بدر»

ہونٹوں پہ محبت کے فسانے نہیں آتے (بشیر بدر)

ہونٹوں پہ محبت کے فسانے نہیں آتے ساحل پہ سمندر کے خزانے نہیں آتے پلکیں بھی چمک اٹھتی ہیں سونے میں ہماری آنکھوں کو ابھی خواب چھپانے نہیں آتے دل اجڑی ہوئی ایک سرائے کی طرح ہے اب لوگ یہاں رات جگانے نہیں آتے یارو نئے موسم نے یہ احسان کیے ہیں اب یاد مجھے …

کہیں چاند راہوں میں کھو گیا کہیں چاندنی بھی بھٹک گئی (بشیر بدر)

کہیں چاند راہوں میں کھو گیا کہیں چاندنی بھی بھٹک گئی میں چراغ وہ بھی بجھا ہوا میری رات کیسے چمک گئی مری داستاں کا عروج تھا تری نرم پلکوں کی چھاؤں میں مرے ساتھ تھا تجھے جاگنا تری آنکھ کیسے جھپک گئی بھلا ہم ملے بھی تو کیا ملے وہی دوریاں وہی فاصلے نہ …

ہمارا دل سویرے کا سنہرا جام ہو جائے (بشیر بدر)

ہمارا دل سویرے کا سنہرا جام ہو جائے چراغوں کی طرح آنکھیں جلیں جب شام ہو جائے کبھی تو آسماں سے چاند اترے جام ہو جائے تمہارے نام کی اک خوبصورت شام ہو جائے عجب حالات تھے یوں دل کا سودا ہو گیا آخر محبت کی حویلی جس طرح نیلام ہو جائے سمندر کے سفر …

اگر تلاش کروں کوئی مل ہی جائے گا (بشیر بدر)

اگر تلاش کروں کوئی مل ہی جائے گا مگر تمہاری طرح کون مجھ کو چاہے گا تمہیں ضرور کوئی چاہتوں سے دیکھے گا مگر وہ آنکھیں ہماری کہاں سے لائے گا نہ جانے کب تری دل پرنئی سی دستک ہو مکان خالی ہوا ہے تو کوئی تو آئے گا میں اپنی راہ میں دیوار بن …

سر جھکاؤ گے تو پتھر دیوتا ہو جائے گا (بشیر بدر)

سر جھکاؤ گے تو پتھر دیوتا ہو جائے گا اتنا مت چاہو اسے وہ بے وفا ہو جائے گا  ہم بھی دریا ہیں ہمیں اپنا ہنر معلوم ہے جس طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہو جائے گا کتنی سچائی سے مجھ سے زندگی نے کہہ دیا تو نہیں میرا تو کوئی دوسرا ہو جائے …

جب رات کی تنہائی دل بن کے دھڑکتی ہے (بشیر بدر)

جب رات کی تنہائی دل بن کے دھڑکتی ہے یادوں کے دریچوں میں چلمن سی سرکتی ہے لوبان میں چنگاری جیسے کوئی رکھ جائے یوں یاد تری شب بھر سینے میں سلگتی ہے یوں پیار نہیں چھپتا پلکوں کے جھکانے سے آنکھوں کے لفافوں میں تحریر  چمکتی ہے خوش رنگ پرندوں کے لوٹ آنے کے …

بے تحاشا سی لا ابالی ہنسی (بشیر بدر)

بے تحاشا سی لا ابالی ہنسی چھن گئی ہم سے وہ جیالی ہنسی لب کھلے جسم مسکرانے لگا پھول کا کھلنا تھا کہ ڈالی ہنسی مسکرائی خدا کی محویت یا ہماری ہی بے خیالی ہنسی کون بے درد چھین لیتا ہے میرے پھولوں کی بھولی بھالی ہنسی وہ نہیں تھا وہاں تو کون تھا پھر …

دعا کرو کہ یہ پودا سدا ہرا ہی لگے (بشیر بدر)

دعا کرو کہ یہ پودا سدا ہرا ہی لگے اداسیوں میں بھی چہرہ کھلا کھلا ہی لگے وہ سادگی نہ کرے کچھ بھی تو ادا ہی لگے وہ بھول پن ہے کہ بے کلی بھی حیا ہی لگے نہیں ہے میرے مقدر میں روشنی نہ سہی یہ کھڑکی کھولو ذرا صبح کی ہوا ہی لگے …

یہ کسک سی دل میں چبھی رہ گئی (بشیر بدر)

                           یہ کسک سی دل میں چبھی رہ گئی زندگی میں تمہاری کمی رہ گئی ایک میں ایک تم اور ایک دیوار تھی زندگی آدھی آدھی بٹی رہ گئی رات کی بھیگی بھیگی چھتوں کی طرح میری پلکوں پہ تھوڑی نمی رہ گئی ریت پر آنسوؤں نے تیرے نام کی جو کہانی لکھی بے پڑھی …

مسکراتی ہوئی دھنک ہے وہی (بشیر بدر)

مسکراتی ہوئی دھنک ہے وہی اس بدن میں چمک دمک ہے وہی پھول مرجھا گئے اجالوں کے سانولی شام میں نمک ہے وہی اب بھی چہرہ چراغ لگتا ہے بجھ گیا ہے مگر چمک ہے وہی وہ سراپا دیئے کی لو جیسا میں ہوا ہوں ادھر لپک ہے وہی کوئی شیشہ ضرور ٹوٹا ہے گنگتاتی …