Category «شاعری»

کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہو گا (کیف بھوپالی)

کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہو گا میرا دروازہ ہواؤں نے بجایا ہوگا دل ناداں نہ دھڑک اے دل ناداں نہ دھڑک کوئی خط لے کے پڑوسی کے گھر آیا ہوگا اس گلستاں کی یہی ریت ہے اے شاخ گل تو نے جس پھول کو پالا وہ پرایا ہوگا دل کی قسمت ہی …

کہیں تو گرد اُڑے، یا کہیں غبار دِکھے (گلزار)

کہیں تو گرد اُڑے، یا کہیں غبار دِکھے کہیں سے آتا ہوا کوئی شہسوار دِکھے رَواں ہیں پھر بھی رُکے ہیں وہیں پہ صدیوں سے بڑے اُداس لگے، جب بھی آبشار دِکھے کبھی تو چونک کے دیکھے کوئی ہماری طرف کسی کی آنکھ میں ہم کو بھی انتظار دِکھے خفا تھی شاخ سے شاید، کہ …

وہ عالم ہے کہ منہ پھیرے ہوئے عالم نکلتا ہے (صفی لکھنوی)

وہ عالم ہے کہ منہ پھیرے ہوئے عالم نکلتا ہے شبِ فرقت کے غم جھیلے ہوؤں کا دم نکلتا ہے الٰہی خیر ہو الجھن پہ الجھن بڑھتی جاتی ہے نہ میرا دم نہ ان کے گیسوؤں کا خم نکلتا ہے قیامت ہی نہ ہو جائے جو پردے سے نکل آؤ تمہارے منہ چھپانے میں تو …

داغ دنیا نے دیے زخم زمانے سے ملے (کیف بھوپالی)

داغ دنیا نے دیے زخم زمانے سے ملے ہم کو تحفے یہ تمہیں دوست بنانے سے ملے ہم ترستے ہی ترستے ہی ترستے ہی رہے وہ فلانے سے فلانے سے فلانے سے ملے خود سے مل جاتے تو چاہت کا بھرم رہ جاتا کیا ملے آپ جو لوگوں کے ملانے سے ملے ماں کی آغوش …

لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا (داغ دہلوی)

لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا تو جو اے زلف! پریشان رہا کرتی ہے کس کے اجڑے ہوئے دل میں ہے ٹھکانا تیرا آرزو ہی نہ رہی صبح وطن کی مجھ کو شام غربت ہے عجب وقت سہانا تیرا تو خدا تو نہیں اے …

تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے (قیصر الجعفری)

تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے میں اک شام چرا لوں اگر برا نہ لگے تمہارے بس میں اگر ہو تو بھول جاؤ مجھے تمہیں بھلانے میں شاید مجھے زمانہ لگے وہ پھول جو میرے دامن سے ہو گئے منسوب خدا کرے انہیں بازار کی ہوا نہ لگے نہ جانے کیا ہے کسی کی …

اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسے (وسیم بریلوی)

اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسے تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے گھر سجانے کا تصور تو بہت بعد کا ہے پہلے یہ طے ہو کہ اس گھر کو بچائیں کیسے لاکھ تلواریں بڑھی آتی ہوں گردن کی طرف سر جھکانا نہیں آتا تو جھکائیں کیسے قہقہہ آنکھ کا برتاؤ بدل دیتا …

وہ یار پری چہرہ کہ کل شب کو سدھارا (جوش ملیح آبادی)

یار پری چہرہ وہ یار پری چہرہ کہ کل شب کو سدھارا طوفاں تھا،  تلاطم تھا،  چھلاوہ تھا شرارہ گل بیز و گہر ریز و گہر بار و گہر تاب  کلیوں نے جسے رنگ دیا گل نے سنوارا نو خواستہ و نورس و نو طلعت و نو خیز وہ نقش جسے خود یدِ قدرت نے …

نقشِ خیال دل سے مٹایا نہیں ہنوز (جوش ملیح آبادی)

نقشِ خیال دل سے مٹایا نہیں ہنوز بے درد میں نے تجھ کو بھلایا نہیں ہنوز وہ سر جو تیری رہ گزر میں تھا سجدہ ریز میں نے کسی قدم پہ جھکایا نہیں ہنوز محرابِ جاں میں تو نے جلایا تھا خود جسے سینے کا وہ چراغ بجھایا نہیں ہنوز بے ہوش ہو کے جلد …

آرہی ہے باغ سے مالن وہ اٹھلاتی ہوئی (جوش ملیح آبادی)

 مالن آرہی ہے باغ سے مالن وہ اٹھلاتی ہوئی مُسکرانے میں لبوں سے پھُول برساتی ہوئی بار بار آنکھیں اُٹھاتی سانس لیتی تیز تیز رس جوانی کا گھنی پلکوں سے ٹپکاتی ہوئی پاؤں رکھتی ناز سے شبنم کے قطروں کی طرح سبزۃ خوابیدۃ گلشن کو چونکاتی ہوئی آستینوں میں جھلکاتی ہوئی بانہوں کا رنگ کاکلوں …