یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں (میر تقی میر)
یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں اب دو تو جام خالی ہی دو میں نشے میں ہوں ایک ایک فرطِ دور میں مجھے بھی دو جامِ شراب پُر نہ کرو میں نشے میں ہوں مستی سے درہمی ہے میری گفتگو کے بیچ جو چاہو تم بھی مجھ سے کہو، میں …