گریزِ شب سے سحر سے کلام رکھتے تھے (نوشی گیلانی)
گریزِ شب سے سحر سے کلام رکھتے تھے کبھی وہ دن تھے کہ زلفوں میں شام رکھتے تھے تمہارے ہاتھ لگے ہیں تو جو کرو سو کرو وگرنہ تم سے تو ہم سو غلام رکھتے تھے ہمیں بھی گھیر لیا گھر کے زعم نے تو کھلا کچھ اور لوگ بھی اس میں قیام …