Category «شاعری»

گستاخ بہت شمع سے پروانہ ہوا ہے (حیدر علی آتش)

گستاخ بہت شمع سے پروانہ ہوا ہے موت آئی ہے، سر چڑھتا ہے، دیوانہ ہوا ہے اس عالم ایجاد میں گردش سے فلک کے کیا کیا نہیں ہونے کا ہے کیا کیا نہ ہوا ہے نالوں سے مرے کون نہ تھا  تنگ مرے بعد کس گھر میں نہیں سجدۃ شکرانہ ہوا ہے یاد آتی ہے …

سن تو سہی جہاں میں ہے ترا فسانہ کیا (حیدر علی آتش)

سن تو سہی جہاں میں ہے ترا فسانہ کیا کہتی ہے تجھ کو خلقِ خدا غائبانہ کیا زیر زمیں سے آتا ہے جو گل زر بکف قاروں نے راستے میں لٹایا خزانہ کیا زینہ صبا کا ڈھونڈتی ہے اپنی مشت خاک بامِ بلند، یار کا ہے آستانہ کیا چاروں طرف سے صورتِ جاناں ہو جلوہ …

گذشتہ خاک نشینوں کی یادگار ہوں میں (امیر مینائی)

گذشتہ خاک نشینوں کی یادگار ہوں میں مِٹا ہوا سا  نشانِ مزار ہوں میں نگاہِ گرم سے مجھ کو نہ دیکھ اے دوزخ خبر نہیں تجھے کس کا گناہ گار ہوں میں پھر اُس کی شانِ کریمی کے حوصلے دیکھے گناہ گار یہ کہہ دے گنہ گار ہوں میں حضور! وصل کی حسرت ازل سے …

طور پر اے تپشِ دل ہیں وہ آنے والے (امیر مینائی)

طور پر اے تپشِ دل ہیں وہ آنے والے آج ہم تجھ کو ہیں بجلی سے لڑانے والے ہم جو پہنچے تو قیامت میں ہوا غُل آئے دھجیاں دامنِ محشر کی اڑانے والے جامِ مے کاتبِ اعمال کو بھی دے  ساقی دو بزرگ آئے ہیں ساتھ اگلے زمانے والے اشکِ خجلت عرقِ شرم تمہیں دونوں …

دیر میں کون ہے کعبے میں گزر کس کا ہے (امیر مینائی)

دیر میں کون ہے کعبے میں گزر کس کا ہے یار کا گھر یہ اگر ہے تو وہ گھر کس کا ہے تیر پر تیر لگاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے سینہ کس کا ہے مِری جان جگر کس کا ہے تن درستوں نے قضا کی ہوئے بیمار صحیح پہلے کیا جانیے دنیا سےسفر کس …

ہر دَم جو خونِ تازہ مِری چشمِ تر میں ہے (امیر مینائی)

ہر دَم جو خونِ تازہ مِری چشمِ تر میں ہے ناسور دل میں ہے کہ الٰہی جگر میں ہے واصل سمجھیے اس کو جو سالک ہے عشق میں منزل پہ جانیے اسے جو رہگزر میں ہے ساقی مئے طہور میں کیفیتیں سہی پر وہ مزہ کہاں ہے جو تیری نظر میں ہے دنیائے ثبات میں …

خلوت میں بے خودی سے پتہ ہی کہیں نہیں (امیر مینائی)

خلوت میں بے خودی سے پتہ ہی کہیں نہیں کیا سیر ہوں وہاں کہ  ہمیں ہیں ہمیں نہیں شکوہ جفا کا تم سے کچھ اے نازنیں نہیں ایسے ہی تم میں ہوتے ہیں سب اک تمہیں نہیں عالم سے ان کی انجمنِ ناز ہے الگ چھت جس کی آسماں ہے یہ وہ زمیں نہیں گزرا …

حسنِ مطلق کا ازل کے دن سے میں دیوانہ تھا (امیر مینائی)

حسنِ مطلق کا ازل کے دن سے میں دیوانہ تھا لامکاں کہتے ہیں جس کو وہ مِرا کاشانہ تھا دل کا حاکم جاں کا مالک غمِ جانانہ تھا میہماں جس کو میں سمجھا تھا وہ صاحب خانہ تھا دیر کی تحقیر کر اتنی نہ اے شیخِ حرم آج کعبہ بن گیا کل تک یہی بت …

ایک وعدہ ہے کسی کا جو وفا ہوتا نہیں (ساغر صدیقی)

ایک وعدہ ہے کسی کا جو وفا ہوتا نہیں ورنہ ان تاروں بھری راتوں میں کیا ہوتا نہیں جی میں آتا ہے الٹ دیں ان کے چہرے سے نقاب حوصلہ کرتے ہیں لیکن حوصلہ ہوتا نہیں شمع جس کی آبرو پر جان دے دے جھوم کر وہ پتنگا جل تو جاتا ہے فنا ہوتا نہیں …

ہماری آنکھوں نے بھی تماشا عجب عجب انتخاب دیکھا (داغ دہلوی)

      ہماری آنکھوں نے بھی تماشا عجب عجب انتخاب دیکھا برائی دیکھی، بھلائی دیکھی، عذاب دیکھا ثواب دیکھا نہ دل ہی ٹھہرا ، نہ آنکھ جھپکی، نہ چین پایا، نہ خواب آیا خدا دکھائے نہ دشمنوں کو، جو دوستی میں عذاب دیکھا نظر میں ہے تیری کبریائی، سماگئی تیری خود نمائی اگر چہ دیکھی بہت …