سوچوں تو وہ ساتھ چل رہا ہے (پروین شاکر)

سوچوں تو وہ ساتھ چل رہا ہے دیکھوں تو نظر بدل رہا ہے کیوں بات زباں سے کہہ کے کھوئی دل آج بھی ہاتھ مل رہا ہے راتوں کے سفر میں وہم سا تھا یہ میں ہوں کہ چاند چل رہا ہے ہم بھی ترے بعد جی رہے ہیں اور تو بھی کہیں بہل رہا …

سندر کومل سپنوں کی بارات گزر گئی جاناں (پروین شاکر)

سندر کومل سپنوں کی بارات گزر گئی جاناں دھوپ آنکھوں تک آ پہنچی رات گزر گئی جناں بھور سمے جس نے ہمیں باہم الجھائے رکھا وہ البیلی ریشم ایسی بات گزر گئی جاناں سدا کی دیکھی رات ہمیں اس بارملی تو چپکے سے خالی ہات پہ رکھ کے کیا سوغات گزر گئی جاناں کس کونپل …

دھوپ سات رنگوں میں پھیلتی ہے آنکھوں پر (پروین شاکر)

دھوپ سات رنگوں میں پھیلتی ہے آنکھوں پر برف جب پگھلتی ہے اس کی نرم پلکوں پر پھر بہار کے ساتھی آگئے ٹھکانوں پر سرخ سرخ گھر نکلے سبز سبز شاخوں پر جسم و جاں سےا ترے گی گرد پچھلے موسم کی دھو رہی ہیں سب چڑیاں اپنے پنکھ چشموں پر ساری رات سوتے میں …

چہرہ میرا تھا، نگاہیں اس کی (پروین شاکر)

چہرہ میرا تھا، نگاہیں اس کی خامشی میں بھی وہ باتیں اس کی میرے چہرے پہ غزل لکھتی گئیں شعر کہتی ہوئی آنکھیں اس کی شوخ لمحوں کا پتہ دینے لگیں تیز ہوتی ہوئی سانسیں اس کی ایسے موسم بھی گزارے ہم نے صبحیں جب اپنی تھیں شامیں اس کی دھیان میں اس کے یہ …

وہ ذرا بھی نہیں بدلا، لوگو (پروین شاکر)

وہ ذرا بھی نہیں بدلا، لوگو خوش نہ تھا مجھ سے بچھڑ کر وہ بھی اس کے چہرے پہ لکھا تھا ، لوگو اس کی آنکھیں بھی کہے دیتی تھیں رات بھر وہ بھی نہ سویا، لوگو اجنبی بن کے جو گزرا ہے ابھی تھا کسی وقت میں اپنا، لوگو دوست تو خیر کوئی کس …

بجا کہ آنکھ میں نیندوں کے سلسلے بھی نہیں (پروین شاکر)

بجا کہ آنکھ میں نیندوں کے سلسلے بھی نہیں شکست خواب کے اب مجھ میں حوصلے بھی نہیں نہیں نہیں یہ خبر دشمنوں نے دی ہو گی وہ آئے آ کے چلے بھی گئے ملے بھی نہیں وہ کون لوگ اندھیروں کی بات کرتے ہیں ابھی تو چاند تری یاد کے ڈھلے بھی نہیں ابھی …

سبز مدھم روشنی میں سرخ آنچل کی دھنک (پروین شاکر)

ایکسٹیسی سبز مدھم روشنی میں سرخ آنچل کی دھنک سرد کمرے میں مچلتی گرم سانسوں کی مہک بازوؤں کے سخت حلقے میں کوئی نازک بدن سلوٹیں ملبوس پر، آنچل بھی کچھ ڈھلکا ہوا گرمئی رُخسار سے دہکی ہوئی ٹھنڈی ہوا نرم زلفوں سے ملائم انگلیوں کی چھیڑ چھاڑ سرخ ہونٹوں پر شرارت کے کسی لمحے …

اے دوست مٹ گیا ہوں فنا ہو گیا ہوں میں (حفیظ جالندھری)

اے دوست مٹ گیا ہوں فنا ہو گیا ہوں میں اس درد دوستی کی دوا ہو گیا ہو میں قائم کیا ہے میں نے عدم کے وجود کو دنیا سمجھ رہی ہے فنا ہو گیا ہوں میں نا آشنا ہیں رتبئہ دیوانگی سے دوست کم بخت جانتے نہیں، کیا ہو گیا ہوں میں ہنسنے کا …

جوانی کے ترانے گارہا ہوں (حفیظ جالندھری)

جوانی کے ترانے گارہا ہوں دبی چنگاریاں سلگا رہا ہوں مِری بزمِ وفا سے جانے والو ٹھہر جاؤ کہ میں بھی آرہا ہوں بتوں کو قول دیتا ہوں وفا کا قسم اپنے خدا کی کھا رہا ہوں ہوئی جاتی ہے کیوں بے تاب منزل مسلسل چل رہا ہوں آرہا ہوں نئے کعبے کی بنیادوں سے …