لاؤ ہاتھ اپنا لاؤ ذرا (فہمیدہ ریاض)

لاؤ ہاتھ اپنا لاؤ ذرا لاؤ ہاتھ اپنا لاؤ ذرا چھو کے میرا بدن اپنے بچے کے دِل کا دھڑکنا سنو ناف کے اس طرف اس کی جنبش کو محسوس کرتے ہو تم؟ بس یہیں چھوڑ دو تھوڑی دیر اور اس ہاتھ کو میرے ٹھندے بدن پر یہیں چھوڑ دو میرے بے کل نفس کو …

اک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھا (پروین شاکر)

اک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھا آنکھ حیران ہے کیا شخص زمانے سے اٹھا کس سے پوچھوں ترے آقا کا پتہ اے رہوار یہ علم وہ ہے نہ اب تک کسی شانے سے اٹھا حلقئہ خواب کو ہی گرد گلو کس ڈالا دستِ قاتل کا بھی احساں نہ دوانے سے اٹھا پھر …

بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھا (پروین شاکر)

بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھا اس زخم کو ہم نے کبھی سلتے نہیں دیکھا اک بار جسے چاٹ گئی دھوپ کی خواہش پھر شاخ پہ اس پھول کو کھلتے نہین دیکھا یک لخت گرا ہے تو جڑیں تک نکل آئیں جس پیڑ کو آندھی میں بھی ہلتے نہیں دیکھا کانٹوں میں …

بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا (پروین شاکر)

بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اس سے مگر جاتے جاتے اس کا وہ مڑ کر دوبارہ دیکھنا کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند اے شبِ ہجراں ذرا اپنا ستارہ دیکھنا کیا قیامت ہے کہ جن کے …

جلا دیا شجر جاں کہ سبز بخت نہ تھا (پروین شاکر)

جلا دیا شجر جاں کہ سبز بخت نہ تھا کسی بھی رُت میں ہرا ہو یہ وہ درخت نہ تھا وہ خواب دیکھا تھا شہزادیوں نے پچھلے پہر پھر اس کے بعد مقدر میں تاج و تخت نہ تھا ذرا سے جبر سے میں بھی  تو ٹوٹ سکتی تھی مری طرح سے طبیعت کا وہ …

میں انھیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیں (مرزا غالب)

میں انھیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیں چل نکلتے جو مے پئے ہوتے قہر ہو یا بلا ہو جو کچھ ہو کاش کہ تم مرے لئے ہوتے میری قسمت میں غم گر اتنا تھا دل بھی یارب کئی دیئے ہوتے آ ہی جاتا وہ راہ پر غالب کوئی دن اور بھی جئے ہوتے

دیکھ کر دل کشی زمانے کی (عبد الحمید عدم)

دیکھ کر دل کشی زمانے کی آرزو ہے فریب کھانے کی اے غمِ زندگی نہ ہو ناراض مجھ کو عادت ہے مسکرانے کی ظلمتوں سے نہ ڈر کہ راستے میں روشنی ہے شراب خانے کی آ ترے گیسوؤں کو پیار کروں رات ہے مشعلیں جلانے کی کس نے ساغر عدم بلند کیا تھم گئیں گردشیں …

ہم کو کس کے غم نے مارا یہ کہانی پھر سہی (مسرار انور)

ہم کو کس کے غم نے مارا یہ کہانی پھر سہی کس نے توڑا دل ہمارا یہ کہانی پھر سہی دل کے لٹنے کا سبب پوچھو نہ سب کا سامنے نام آئے گا تمہارا یہ کہانی پھر سہی نفتروں کے تیر کھا کر دوستوں کے شہر میں ہم نے کس کس کو پکارا یہ کہانی …

سنا ہے زمیں پر۔۔۔۔۔۔! (محسن نقوی)

!سنا ے زمیں پر۔۔۔۔۔ سُنا ہے    زمیں پر وہی لوگ ملتے ہیں ۔۔۔۔۔جن کو کبھی آسمانوں کے اپس پار روحوں کے میلے میں اِک دوسرے کی محبت ملی ہو۔۔۔۔!  مگر تم کہ میرے لیے نفرتوں کے اندھیرے میں ہنستی ہوئی روشنی ہو !لہو میں رچی !!رگوں میں بسی ہو ہمیشہ سکوتِ شبِ غم میں …