کوئی سوال نہ کر اور کوئی جواب نہ پوچھ (خوشبیر سنگھ شاد)

کوئی سوال نہ کر اور کوئی جواب نہ پوچھ تو مجھ سے عہد گذشتہ کا اب حساب نہ پوچھ سفینے کتنے ہوئے اس میں غرق آب نہ پوچھ تو میرے دل کے سمندر کا اضطراب نہ پوچھ میں کب سے نیند کا مارا ہوا ہوں اور کب سے یہ میری جاگتی آنکھیں ہیں محو خواب …

غضب ہے سرمہ دے کر آج وہ باہر نکلتے ہیں (بھارتیندو ہریش چندر سا)

غضب ہے سرمہ دے کر آج وہ باہر نکلتے ہیں ابھی سے کچھ دل مضطر پر اپنے تیر چلتے ہیں ذرا دیکھو تو اے اہل سخن زور صناعت کو نئی بندش ہے مجنوں نور کے سانچے میں ڈھلتے ہیں برا ہو عشق کا یہ حال ہے اب تیری فرقت میں کہ چشم خونچکاں سے لخت …

شباب آیا کسی بُت پر فِدا ہونے کا وقت آیا (پنڈت ہری چند اختر)

شباب آیا کسی بُت پر فِدا ہونے کا وقت آیا مِری دُنیا میں بندے کے خُدا ہونے کا وقت آیا اُنھیں دیکھا تو زاہد نے کہا ایمان کی یہ ہے کہ اب انسان کو سجدہ رَوا ہونے کا وقت آیا تکلّم کی خموشی کہہ رہی ہے حرفِ مطلب سے کہ اشک آمیز نظروں سے ادا …

حسن جو رنگ خزاں میں ہے وہ پہچان گیا (صبا اکبر آبادی)

حسن جو رنگ خزاں میں ہے وہ پہچان گیا فصل گل جا مرے دل سے ترا ارمان گیا تو خداوند محبت ہے میں پہچان گیا دل سا ضدی تری نظروں کا کہا مان گیا آئنہ خانہ سے ہوتا ہوا حیران گیا خود فراموش ہوا جو تمہیں پہچان گیا اب تو مے خانۂ الفت میں چلا …

چشم و ادا و غمزہ، شوخی و ناز، پانچوں (انشااللہ خاں انشا)

چشم و ادا و غمزہ، شوخی و ناز، پانچوں دُشمن ہیں میرے جی کے، بندہ نواز! پانچوں کیا رنگِ زرد و گریہ ، کیا ضعف و درد و افغاں افشا کریں ہیں مِل کر میرا یہ راز، پانچوں نارِ فراق سے ہے، جوں شمع، دِل کو ہر شب احراق و داغ و گریہ ، سوز …

بستی تجھ بن اُجاڑ سی ہے (انشااللہ خاں انشا)

بستی تجھ بن اُجاڑ سی ہے کم بخت یہ شب پہاڑ سی ہے شاید کہ ہوئی سرایتِ عشق کچھ سینے میں چیرپھاڑ سی ہے ہرچند کہ بولتے نہیں وہ باہم پر چھیڑچھاڑ سی ہے سو رہتے ہیں ایک ساتھ لیکن تلوار کی بیچ آڑ سی ہے اِنشا اللہ شاید آیا اُس کوچے میں بھیڑ بھاڑ …

عرض ہنر بھی وجہِ شکایات ہو گئی (حفیظ جالندھری)

عرض ہنر بھی وجہِ شکایات ہو گئی چھوٹا سا منہ تھا مجھ سے بڑی بات ہو گئی دشنام کا جواب نہ سوجھا بجز سلام ظاہر مرے کلام کی اوقات ہو گئی دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی یا ضربت خلیل سے بت خانہ چیخ اٹھا …

تو کہیں بھی رہے سر پر تیرے الزام تو ہے (صابر جلال آبادی)

تو کہیں بھی رہے سر پر تیرے الزام تو ہے تیرے ہاتھوں کی لکیروں میں میرا نام تو ہے مجھ کو تو اپنا بنا یا نہ بنا تیری خوشی تیری محفل میں میرے نام کوئی شام تو ہے دیکھ کر مجھ کو لوگ نام تیرا لیتے ہیں اس پہ میں خوش ہوں محبت کا یہ …

یہ کہہ کے وہ آگ دل میں لگائے جاتے ہیں (پرنم الہ آبادی)

یہ کہہ کے وہ آگ دل میں لگائے جاتے ہیں چراغ خود نہیں جلتے جلائے جاتے ہیں اب اس سے بڑھ کے ستم دوستوں پہ کیا ہو گا وہ دشمنوں کو گلے لگائے جاتے ہیں غریبی جرم ہے ایسا کہ دیکھ کر مجھ کو نگاہیں پھر کے اپنے پرائے جاتے ہیں کششِ چراغ کی یہ …

کمالِ عشق ہے دیوانہ ہو گیا ہوں میں (اسرارالحق مجاز لکھنوی)

کمالِ عشق ہے دیوانہ ہو گیا ہوں میں یہ کس کے ہاتھ سے دامن چھڑا رہا ہوں میں تمہیں تو ہو جسے کہتی ہے نا خدا دنیا بچا سکو تو بچاؤ کہ ڈوبتا ہوں میں یہ میرے عشق کی مجبوریاں معا ذاللہ تمہارا راز تمہی سے چھپا رہا ہوں میں اس اک حجاب پہ سو …