بازارِ محبت کی تو اپنی ہی ہوا ہے (خضر ناگپوری)
بازارِ محبت کی تو اپنی ہی ہوا ہے بکتی ہی نہیں جو کبھی وہ جنس وفا ہے دشمن کو بھی ڈالے نہ خدا شک کے مرض میں اس کے لیے دنیا میں دوا ہے، نہ دعا ہے سنتا ہی نہیں وہ بتِ بے مہر کسی کی معلوم نہیں کونسی مٹی کا بنا ہے پیری میں …