بازارِ محبت کی تو اپنی ہی ہوا ہے (خضر ناگپوری)

بازارِ محبت کی تو اپنی ہی ہوا ہے بکتی ہی نہیں جو کبھی وہ جنس وفا ہے دشمن کو بھی ڈالے نہ خدا شک کے مرض میں اس کے لیے دنیا میں دوا ہے، نہ دعا ہے سنتا ہی نہیں وہ بتِ بے مہر کسی کی معلوم نہیں کونسی مٹی کا بنا ہے پیری میں …

بھیگتی آنکھوں کے منظر نہیں دیکھے جاتے (معراج فیض آبادی)

بھیگتی آنکھوں کے منظر نہیں دیکھے جاتے ہم سے اب اتنے سمندر نہیں دیکھے جاتے اس سے ملنا ہے تو پھر سادہ مزاجی سے ملو آئینے بھیس بدل کر نہیں دیکھے جاتے وضع داری تو بزرگوں کی امانت ہے مگر اب یہ بکتے ہوئے زیور نہیں دیکھے جاتے زندہ رہنا ہے تو حالات سے ڈرنا …

کہانیاں نہ سنو آس پاس لوگوں کی (احمد فراز)

کہانیاں نہ سنو آس پاس لوگوں کی کہ میرا شہر ہے بستی اداس لوگوں کی نہ کوئی سمت نہ منزل سو قافلہ کیسا رواں ہے بھیڑ فقط بے قیاس لوگوں کی کسی سے پوچھ ہی لیتے وفا کے باب میں ہم کمی نہیں تھی زمانہ شناس لوگوں کی محبتوں کا سفر ختم تو نہیں ہوتا …

اس نے جب چاہنے والوں سے اطاعت چاہی (احمد فراز)

اس نے جب چاہنے والوں سے اطاعت چاہی ہم نے آداب کہا اور رخصت چاہی یونہی بیکار میں کوئی کب تک بیٹھا رہتا اس کو فرصت جو نہ تھی ہم نے بھی رخصت چاہی شکوہ ناقدرئی دنیا کا کریں کیا کہ ہمیں کچھ زیادہ ہی ملی جتنی محبت چاہی رات جب جمع تھے دکھ دل …

دکھ اپنا اگر ہم کو بتانا نہیں آتا (وسیم بریلوی)

دکھ اپنا اگر ہم کو بتانا نہیں آتا تم کو بھی تو اندازہ لگانا نہیں آتا پہنچا ہے بزرگوں کے بیانوں سے جو ہم تک کیا بات ہوئی کیوں وہ زمانہ نہیں آتا میں بھی اسے کھونے کا ہنر سیکھ نہ پایا اس کو بھی مجھے چھوڑ کے جانا نہیں آتا ڈھونڈے ہے تو پلکوں …

بجھ گیا دل حیات باقی ہے (خمار بارہ بنکوی)

بجھ گیا دل حیات باقی ہے چھپ گیا چاند رات باقی ہے حالِ دل ان سے کہہ چکے سو بار اب بھی کہنے کی بات باقی ہے اے خوشا ختم اجتناب مگر محشرِ التفات باقی ہے عشق میں ہم سمجھ چکے سب سے ایک ظالم حیات باقی ہے ناصحانِ کرم کے دم سے شورشِ کائنات …

یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگی (محسن نقوی)

یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگی اس دشت میں اک شہر تھا وہ کیا ہوا آوارگی کل شب مجھے بے شکل کی آواز نے چونکا دیا میں نے کہا تو کون ہے اس نے کہا آوارگی لوگو بھلا اس شہر میں کیسے جیئیں ہم جہاں ہو جرم تنہا سوچنا لیکن سزا …

زخم جھیلے داغ بھی کھائے بہت (میر تقی میر)

زخم جھیلے داغ بھی کھائے بہت دل لگا کر ہم تو پچھتائے بہت جب نہ تب جگہ سے تم جایا کیے ہم تو اپنی اور سے آئے بہت دیر سے سوئے حرم آیا نہ ٹُک ہم مزاج اپنا ادھر لائے بہت پھول، گل، شمس و قمر سارے ہی تھے پر ہمیں ان میں تمہیں بھائے …

غصے سے اٹھ چلے ہو تو دامن کو جھاڑ کر (میر تقی میر)

غصے سے اٹھ چلے ہو تو دامن کو جھاڑ کر جاتے رہیں گے ہم بھی گریباں پھاڑ کر دل وہ نگر نہیں کہ پھر آباد ہو سکے پچھتاؤ گے سنو ہو یہ بستی اجاڑ کر یا رب رہِ طلب میں کوئی کب تلک پھرے تسکیں دے کہ بیٹھ رہوں پاؤں گاڑ کر منظور ہو نہ …

دعا کرو کہ یہ پودا سدا ہرا ہی لگے (بشیر بدر)

دعا کرو کہ یہ پودا سدا ہرا ہی لگے اداسیوں میں بھی چہرہ کھلا کھلا ہی لگے وہ سادگی نہ کرے کچھ بھی تو ادا ہی لگے وہ بھول پن ہے کہ بے کلی بھی حیا ہی لگے نہیں ہے میرے مقدر میں روشنی نہ سہی یہ کھڑکی کھولو ذرا صبح کی ہوا ہی لگے …