کیا کیجے غم اپنا بیاں ہو نہیں سکتا (جلیل مانک پوری)
کیا کیجے غم اپنا بیاں ہو نہیں سکتا چپ ہو رہوں یہ بھی مِری جاں ہو نہیں سکتا فرما گئے وہ دے کے مجھے داغِ جدائی یہ پھول کبھی نذرِ خزاں ہو نہیں سکتا حق یہ ہے کہ دیدار کو درکار ہیں آنکھیں ہونے کو تِرا جلوہ کہاں ہو نہیں سکتا زاہد سے کہو خدمتِ …