Category «جلیل مانک پوری»

کیا کیجے غم اپنا بیاں ہو نہیں سکتا (جلیل مانک پوری)

کیا کیجے غم اپنا بیاں ہو نہیں سکتا چپ ہو رہوں یہ بھی مِری جاں ہو نہیں سکتا فرما گئے وہ دے کے مجھے داغِ جدائی یہ پھول کبھی نذرِ خزاں ہو نہیں سکتا حق یہ ہے کہ دیدار کو درکار ہیں آنکھیں ہونے کو تِرا جلوہ کہاں ہو نہیں سکتا زاہد سے کہو خدمتِ …

قاصد آیا مگر جواب نہیں (جلیل مانک پوری)

قاصد آیا مگر جواب نہیں میرے لکھے کا بھی جواب نہیں غم تو ہے ساقیا شراب نہیں آسماں ہے اور آفتاب نہیں بن کے بت وہ سب کہہ گزرتے ہیں بے دہانی ترا جواب نہیں صبح ہوتے وہ گھر گئے اپنے اب نکلنے کا آفتاب نہیں نور وہ ہے کہ کچھ نہیں کھلتا ہے ترے …

رازِ عشق اظہار کے قابل نہیں (جلیل مانک پوری)

رازِ عشق اظہار کے قابل نہیں جرم یہ اقرار کے قابل نہیں آنکھ پر خوں شق جگر دل داغ دار کوئی نذرِ یار کے قابل نہیں دید کے قابل حسیں تو ہیں بہت ہر نظر دیدار کے قابل نہیں دے رہے ہیں مے وہ اپنے ہاتھ سے اب یہ شے انکار کے قابل نہیں جان …

چل پھر کے انہیں ہر روز اک حشر بپا کرنا (جلیل مانک پوری)

چل پھر کے انہیں ہر روز اک حشر بپا کرنا اے میرے خدا تجھ کو منظور ہے کیا کرنا میں نے جو تمہیں چاہا کیا اس میں خطا میری یہ تم ہو یہ آئینہ، انصاف ذرا کرنا جاتے ہو خدا حافظ ہاں اتنی گزارش ہے جب یاد ہم آ جائیں ملنے کی دعا کرنا گو …

بوئے مے پا کے میں چلتا ہوا مے خانے کو جلیل مانک پوری)

بوئے مے پا کے میں چلتا ہوا مے خانے کو اِک پری تھی کہ لگا لے گئی دیوانے کو کوئی ایسی بھی ہے صورت تِرے صدقے ساقی رکھ لوں میں دل میں اٹھا کر تِرے مے خانے کو ہے سبق یاد دو عالم کی فراموشی کا ہوش اتنا تو ہے اب تک تِرے دیوانے کو …

اس شان سے وہ آج پئے امتحاں چلے (جلیل مانک پوری)

اس شان سے وہ آج پئے امتحاں چلے فتنوں نے پاؤں چوم کے پوچھا کہاں چلے اپنی ادائے نیم نگاہی کا واسطہ لے بے خبر،خبر، کہ تِرے نیم جاں چلے  جب میں چلوں تو سایہ بھی اپنا نہ ساتھ دے جب تم چلو زمیں چلے آسمان چلے آنکھوں میں کون آ کے الٰہی نکل گیا …

بات ساقی کی ٹالی نہ جائے گی (جلیل مانک پوری)

بات ساقی کی ٹالی نہ جائے گی کر کے توبہ توڑ ڈالی جائے گی آتے آتے ان کو آئے گا خیال جاتے جاتے بے خیالی جائے گی بے سبب اپنی جگر کاوی نہیں عشق کی بنیاد ڈالی جائے گی کچھ حیا کا بھی رہے شوخی میں پاس ورنہ یہ نازوں کی پالی جائے گی فصلِ …

➤