خود کو پانے کی طلب میں آرزو اس کی بھی تھی (ظہور نظر)
خود کو پانے کی طلب میں آرزو اس کی بھی تھی میں جو مل جاتا تو اس میں آبرو اس کی بھی تھی زندگی اک دوسرے کو ڈھونڈنے میں کٹ گئی جستجو میری بھی دشمن تھی عدو اس کی بھی تھی میری باتوں میں بھی تلخی تھی سم تنہائی کی زہر تنہائی میں ڈوبی گفتگو …