Category «شاعری»

گریزِ شب سے سحر سے کلام رکھتے تھے (نوشی گیلانی)

گریزِ شب سے سحر سے کلام رکھتے تھے کبھی وہ دن تھے کہ زلفوں میں شام رکھتے تھے   تمہارے ہاتھ لگے ہیں تو جو کرو سو کرو وگرنہ تم سے تو ہم سو غلام رکھتے تھے   ہمیں بھی گھیر لیا گھر کے زعم نے تو کھلا کچھ اور لوگ بھی اس میں قیام …

مجھ کو بھی ترکیب سکھا کوئی یار جولاہے (گلزار)

  مجھ کو بھی ترکیب سکھا کوئی یار جولاہے اکثر تجھ کو دیکھا ہے کہ تانا بنتے جب کوئی تاگا ٹوٹ گیا یا ختم ہوا پھر سے باندھ کے اور سرا کوئی جوڑ کے اس میں آگے بننے لگتے ہو تیرے اس تانے میں لیکن اک بھی گانٹھ گرہ بنتر کی دیکھ نہیں سکتا ہے …

وقت کی آنکھ پہ پٹی باندھ کے کھیل رہے تھے آنکھ مچولی (گلزار)

وقت کی آنکھ پہ پٹی باندھ کے کھیل رہے تھے آنکھ مچولی رات اور دن اور چاند اور میں جانے کیسے کائنات میں اٹکا پاؤں دور گرا جا کر میں جیسے! روشنی سے دھکا کھا کے پرچھائیں زمیں پر گرتی ہے دھیا چھونے سے پہلے ہی وقت نے چور کہا اور آنکھیں کھول کے مجھ …

نظم الجھی ہوئی ہے سینے میں (گلزار)

  نظم الجھی ہوئی ہے سینے میں مصرعے اٹکے ہوئے ہیں ہونٹوں پر لفظ کاغذ پہ بیٹھتے ہی نہیں اڑتے پھرتے ہیں تتلیوں کی طرح کب سے بیٹھا ہوا ہوں میں جانم سادہ کاغذ پہ لکھ کے نام ترا بس ترا نام ہی مکمل ہے اس سے بہتر بھی نظم کیا ہو گی!

تراش کر مرے بازو اڑان چھوڑ گیا (پروین شاکر)

  تراش کر مرے بازو اڑان چھوڑ گیا ہوا کے پاس برہنہ کمان چھوڑ گیا   رفاقتوں کا مری اس کو دھیان کتنا تھا زمین لے لی مگر آسمان چھوڑ گیا   عجیب شخص تھا بارش کا رنگ دیکھ کے بھی کھلے دریچے پہ ایک پھول دان چھوڑ گیا   جو بادلوں سے بھی مجھ …

ہتھیلیوں کی دعا پھول لے کے آئی ہو (پروین شاکر)

  ہتھیلیوں کی دعا پھول لے کے آئی ہو کبھی تو رنگ مرے ہاتھ کا حنائی ہو!   کوئی تو ہو جو مرے تن کو روشنی بھیجے کسی کا پیار ہوا میرے نام لائی ہو!   گلابی پاؤں مرے چمپئی بنانے کو کسی نےصحن میں مہندی کی باڑھ اگائی ہو   کبھی تو ہو مرے …

قریئہ جاں میں کوئی پھول کھلانے آئے (پروین شاکر)

  قریئہ جاں میں کوئی پھول کھلانے آئے وہ مرے دل پہ نیا زخم لگانے آئے   میرے ویران دریچون میں بھی خوشبو جاگے وہ مرے گھر کے در و بام سجانے آئے   اُس سے اِک بار تو روٹھوں اُسی کی مانند اور مری طرح سے وہ بھی مجھ کو منانے آئے   اِسی …

تمہارا کہنا ہے (پروین شاکر)

واہمہ   تمہارا کہنا ہے   تم مجھے بے پناہ شدت سے چاہتے ہو   تمہاری چاہت   وصال کی آخری حدوں تک   مرے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فقط مرے نام ہوگی   مجھے یقین ہے۔۔۔۔۔۔ مجھے یقین ہے   مگر قسم کھانے والے لڑکے!   تُمہاری آنکھوں میں ایک تِل ہے!

وہ مجبوری نہیں تھی ، یہ اداکاری نہیں ہے (پروین شاکر)

  وہ مجبوری نہیں تھی ، یہ اداکاری نہیں ہے مگر دونوں طرف پہلی سی سرشاری نہیں ہے   بہانے سے اسے دیکھ آنا پل دو پل کو یہ فردِ جرم ہے اور آنکھ انکاری نہیں ہے   میں تیری سردمہری سے ذرا بد دل نہیں ہوں مرے دشمن! ترا یہ وار بھی کاری نہیں …

دیارِ گل کی رات میں چراغ سا جلا گیا (ناصر کاظمی)

                  دیارِ گل کی رات میں چراغ سا جلا گیا مِلا نہیں تو کیا ہوا وہ شکل تو دکھا گیا                                                                                            جدائیوں کے زخم دردِ زندگی نے بھر دیے اسے بھی نیند آگئی مجھے بھی صبر آگیا   پکارتی ہیں فرصتیں کہاں گئیں وہ صحبتیں زمیں نگل گئی انہیں کہ آسمان کھا گیا …