دل میں جب سے ہوا قیام ترا (قمر انجم)
دل میں جب سے ہوا قیام ترا ہر کوئی پوچھتا ہے نام ترا سب کے احساس پر چھایا ہے تو ہر جگہ پر ہے ذکر عام ترا ہٹ کے چلتی ہے تیرے پیکر سے دھوپ کرتی ہے احترام ترا تیرے قدموں کے ساتھ چلتا ہے راستہ بھی ہوا غلام ترا روز آتی تو ہے صبا …