دامنوں کا نہ پتہ ہے نہ گریبانوں کا (امیر مینائی)
دامنوں کا نہ پتہ ہے نہ گریبانوں کا حشر جسے کہتے ہیں شہر ہے عریانوں کا گھر ہے اللہ کا گھر بے سرو سامانوں کا پاسبانوں کا یہاں کام نہ دربانوں کا گور کِسریٰ و فریدوں پہ جو پہنچوں تو پوچھوں تم یہاں سوتے ہو کیا حال ہے ایوانوں کا کیا لکھیں یار کو نامہ …