چاند کیا چھپ گیا ہے (پروین شاکر)
پسِ جاں چاند کیا چھپ گیا ہے گھنے بادلوں کے کنارے روپہلے ہوئےجارہے ہیں !
اردوکےمشہورشعئرا اور ان کاکلام
پسِ جاں چاند کیا چھپ گیا ہے گھنے بادلوں کے کنارے روپہلے ہوئےجارہے ہیں !
رقیب سے آکہ وابستہ ہیں اس حسن کی یادیں تجھ سے جس نے اس دل کو پری خانہ بنا رکھا تھا جس کی الفت میں بھلا رکھی تھی دنیا ہم نے دہر کو دہر کا افسانہ بنا رکھا تھا آشنا ہیں ترے قدمون سے وہ راہیں جن پر اس کی مدہوش جوانی …
مجھ سے پہلی سی محبت مِری محبوب نہ مانگ میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات تیرا غم ہے تو غمِ دہر کا جھگڑا کیا ہے تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے تُو جو مل جائے …
گلشنِ یاد میں گر آج دمِ بادِ صبا پھر سے چاہے کہ گل ا فشاں ہو تو ہو جانے دو عمرِ رفتہ کے کسی طاق پہ بسرا ہوا درد پھر سے چاہے کہ فروزاں ہو تو ہو جانے دو جیسے بیگانہ سے اب ملتے ہو ویسے ہی سہی آؤ دو چار گھڑی میرے مقابل بیٹھو …
شام آئی ، تری یادوں کے ستارے نکلے رنگ ہی غم کے نہیں، نقش بھی پیارے نکلے ایک موہوم تمنا کے سہارے نکلے چاند کے ساتھ ہجر کے مارے نکلے کوئی موسم ہو مگر شانِ خم و پیچ ہے وہی رات کی طرح کوئی زلف سنوارے نکلے رقص جن کا ہمیں …
خیال و خواب ہوا برگ و بار کا موسم بچھڑ گیا تری صورت ، بہار کا موسم کئی رتوں سے مرے نیم وا دریچوں میں ٹھہر گیا ترے انتظار کا موسم وہ نرم لہجے میں کچھ تو کہے کہ لوٹ آئے سماعتوں کی زمیں پر پھوار کا موسم پیام آیا ہے …
چاند ایک سے مسافر ہیں ایک سا مقدر ہے میں زمین پر تنہا ! اور وہ آسمانوں میں!
جو اتنا ملائم ہے ، جیسے دھنک گیت بن کر سماعت کو چھونے لگی ہو شفق نرم کومل سروں میں کوئی پیار کی بات کہنے چلی ہو کس قدر !۔۔۔۔۔رنگ و آہنگ کا کس قدر خوبصورت سفر! وہی نرم لہجہ کبھی اپنے مخصوص انداز میں مجھ سے باتیں کرے گا تو ایسا لگے جیسے ریشم …
جانے سے پہلے اُس نے میرے آنچل سے ایک فقرہ باندھ دیا ٰI Will MISS YOU سار اسفر خوشبو میں بسا رہا !
وہ تو خوشبو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا ہم تو سمجھے تھے کہ اک زخم ہے بھر جائے گا کیا خبر تھی کہ رگِ جاں میں اتر جائے گا وہ ہواؤں کی طرح خانہ بجاں پھرتا ہے ایک جھونکا ہے جو آئے گا …