آکہ وابستہ ہیں اس حسن کی یادیں تجھ سے (فیض احمد فیض)

  رقیب سے   آکہ وابستہ ہیں اس حسن کی یادیں تجھ سے جس نے اس دل کو پری خانہ بنا رکھا تھا جس کی الفت میں بھلا رکھی تھی دنیا ہم نے دہر کو دہر کا افسانہ بنا رکھا تھا   آشنا ہیں ترے قدمون سے وہ راہیں جن پر اس کی مدہوش جوانی …

مجھ سے پہلی سی محبت مِری محبوب نہ مانگ (فیض احمد فیض)

  مجھ سے پہلی سی محبت مِری محبوب نہ مانگ   میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات تیرا غم ہے تو غمِ دہر کا جھگڑا کیا ہے تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے   تُو جو مل جائے …

کوئی عاشق کسی محبوبہ سے (فیض احمد فیض)

گلشنِ یاد میں گر آج دمِ بادِ صبا پھر سے چاہے کہ گل ا فشاں ہو تو ہو جانے دو عمرِ رفتہ کے کسی طاق پہ بسرا ہوا درد پھر سے چاہے کہ فروزاں ہو تو ہو جانے دو جیسے بیگانہ سے اب ملتے ہو ویسے ہی سہی آؤ دو چار گھڑی میرے مقابل بیٹھو …

شام آئی ، تری یادوں کے ستارے نکلے (پروین شاکر)

  شام آئی ، تری یادوں کے ستارے نکلے رنگ ہی غم کے نہیں،  نقش بھی پیارے نکلے   ایک موہوم تمنا کے سہارے نکلے چاند کے ساتھ ہجر کے مارے نکلے   کوئی موسم ہو مگر شانِ خم و پیچ ہے وہی رات کی طرح کوئی زلف سنوارے نکلے   رقص جن کا ہمیں …

خیال و خواب ہوا برگ و بار کا موسم (پروین شاکر)

  خیال و خواب ہوا برگ و بار کا موسم بچھڑ گیا تری صورت ، بہار کا موسم   کئی رتوں سے مرے نیم وا دریچوں میں ٹھہر گیا ترے انتظار کا موسم   وہ نرم لہجے میں کچھ  تو کہے  کہ لوٹ آئے سماعتوں کی زمیں پر پھوار کا موسم   پیام آیا ہے …

جو اتنا ملائم ہے ، جیسے (میر تقی میر)

جو اتنا ملائم ہے ، جیسے دھنک گیت بن کر سماعت کو چھونے لگی ہو شفق نرم  کومل سروں میں کوئی پیار کی بات کہنے چلی ہو کس قدر !۔۔۔۔۔رنگ و آہنگ کا کس قدر خوبصورت سفر! وہی نرم لہجہ کبھی اپنے مخصوص انداز میں مجھ سے باتیں کرے گا تو ایسا لگے جیسے ریشم …

وہ تو خوشبو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا (پروین شاکر)

  وہ تو خوشبو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا   ہم تو سمجھے تھے کہ اک زخم ہے بھر جائے گا کیا خبر تھی کہ رگِ جاں میں اتر جائے گا   وہ ہواؤں کی طرح خانہ بجاں پھرتا ہے ایک جھونکا ہے جو آئے گا …