کسی صورت نمودِ سوزِ پنہانی نہیں جاتی (جگر مراد ابادی)

کسی صورت نمودِ سوزِ پنہانی نہیں جاتی بجھا جاتا ہے دل چہرے کی تابانی نہیں جاتی صداقت ہو تو دل سینوں سے کھنچنے لگتے ہیں واعظ حقیقت خود کو منوا لیتی ہے مانی نہیں جاتی وہ یوں دل سے گزرتے ہیں کہ آہٹ تک نہیں ہوتی وہ یوں آواز دیتے ہیں کہ پہچانی نہیں جاتی …

دل میں کسی کے راہ کیے جا رہا ہوں میں (جگر مراد آبادی)

دل میں کسی کے راہ کیے جا رہا ہوں میں کتنا حسیں گناہ کیے جا رہا ہوں میں مجھ سے لگے ہیں عشق کی عظمت کو چار چاند خود حسن کو گواہ کیے جا رہا ہوں میں گلشن پرست ہوں مجھے گل ہی نہیں عزیز کانٹوں سے بھی نبھاہ کیے جا رہا ہوں میں آگے …

اے شمع تجھ پہ رات یہ بھاری ہے جس طرح (ناطق لکھنوی)

اے شمع تجھ پہ رات یہ بھاری ہے جس طرح میں نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح دل کے سوا کوئی نہ تھا سرمایہ اشک کا حیراں ہوں کام آنکھوں کا جاری ہے کس طرح عنصر ہے خیر و شر کا ہر اک شے میں یوں نہاں ہر شمعِ بزم نوری و ناری ہے …

نئی دنیا مجسم دلکشی معلوم ہوتی ہے (نشور واحدی)

نئی دنیا مجسم دلکشی معلوم ہوتی ہے مگر اس حسن میں دل کی کمی معلوم ہوتی ہے حجابوں میں نسیمِ زندگی معلوم ہوتی ہے کسی دامن کی ہلکی تھرتھراتی معلوم ہوتی ہے مری راتوں کی خنکی ہے ترے گیسوئے پُرخم میں یہ بڑھتی چھاؤں بھی کتنی گھنی معلوم ہوتی ہے وہ اچھا تھا جو بیڑا …

اگر مرتے ہوئے لب پر نہ تیرا نام آئے گا (شاد عارفی)

اگر مرتے ہوئے لب پر نہ تیرا نام آئے گا تو میں مرنے سے درگزرا مِرے کس کام آئے گا عطا کی جب کہ خود پیرِ مغاں نے پی بھی لے زاہد یہ کیسا سوچنا ہے تجھ پہ کیوں الزام آئے گا شبِ ہجراں کی سختی ہو تو لیکن یہ کیا کم ہے کہ لب …

دل آباد کہاں رہ پائے اس کی یاد بھلا دینے سے (جلیل عالی)

دل آباد کہاں رہ پائے اس کی یاد بھلا دینے سے کمرہ ویراں ہو جاتا ہے اک تصویر ہٹا دینے سے بیتابی کچھ اور بڑھا دی اک جھلک دکھلا دینے سے پیاس بجھے کیسے صحرا کی دو بوندیں برسا دینے سے ہنستی آنکھیں لہو رلائیں کھلتے گل چہرے مرجھائیں کیا پائیں بے مہر ہوائیں دل …

فقیرانہ آئے صدا کر چلے (میر تقی میر)

فقیرانہ آئے صدا کر چلے میان خوش رہو ہم دعا کر چلے جو تجھ بن نہ جینے کو کہتے تھے ہم سو اِس عہد کو اب وفا کر چلے شفا اپنی تقدیر ہی میں نہ تھی کہ مقدور تک تو دوا کر چلے بہت آرزو تھی گلی کی تِری سو یاں سے لہو میں نہا …

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاج وری کا (میر تقی میر)

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاج وری کا کل اُس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت اسباب لٹا راہ میں یاں ہر سفری کا زنداں میں بھی شورش نہ گئی اپنے جنوں کی اب سنگ مداوا ہے اس اشفتہ سری کا اپنی تو جہاں …

جو تو ہی صنم ہم سے بے زار ہو گا (میر تقی میر)

جو تو ہی صنم ہم سے بے زار ہو گا تو جینا ہمیں اپنا دشوار ہو گا غمِ ہجر رکھے گا بے تاب دل کو ہمیں کڑھتے کڑھتے کچھ آزار ہو گا جو افراطِ الفت ہے ایسا تو عاشق کوئی دن میں برسوں کا بیمار ہو گا اچٹتی ملاقات کب تک رہے گی کبھو تو …