آج بھی شام اداس رہی (محسن نقوی)
آج بھی شام اداس رہی آج بھی شام اداس رہی آج بھی تپتی دھوپ کا سحرا ترے نرم لبوں کے شبنم سائے سے محروم رہا آج بھی پتھر ہجر کا لمحہ صدیوں سے بے خواب رتوں کی آنکھوں کا مفہوم رہا آج بھی اپنے وصل کا تارا راکھ اڑاتی شوخ شفق کی منزل سے معدوم …