آج بھی شام اداس رہی (محسن نقوی)

آج بھی شام اداس رہی آج بھی شام اداس رہی آج بھی تپتی دھوپ کا سحرا ترے نرم لبوں کے شبنم سائے سے محروم رہا آج بھی پتھر ہجر کا لمحہ صدیوں سے بے خواب رتوں کی آنکھوں کا مفہوم رہا آج بھی اپنے وصل کا تارا راکھ اڑاتی شوخ شفق کی منزل سے معدوم …

وصال رُت کی یہ پہلی دستک ہی سرزنش ہے (نوشی گیلانی)

اداس شام کی ایک نظم وصال رُت کی یہ پہلی دستک ہی سرزنش ہے کہ ہجر موسم نے رستے رستے سفر کا آغاز کر دیا ہے تمہارے ہاتھوں کا لمس جب بھی مری وفا کی ہتھیلیوں پرحنا بنے گا تو سوچ لوں گی رفاقتوں کا سنہرا سورج غروب کے امتحان میں ہے ہمارے باغوں میں …

وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھی (نصیر ترابی)

وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھی کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی نہ اپنا رنج نہ اوروں کا دکھ نہ تیرا ملال شبِ فراق کبھی ہم نے یوں گنوائی نہ تھی محبتوں کا سفر اس طرح بھی گزرا تھا شکستہ دل تھے مسافر شکستہ پائی نہ تھی …

کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا ایا (ساحر لدھیانوی)

کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا ایا بات نکلی تو ہر اک بات  پہ رونا آیا ہم تو سمجھے تھے کہ ہم بھول گئے ہیں ان کو کیا ہوا اج کس بات پہ رونا آیا کس لیے جیتے ہیں ہم کس کے لیے جیتے ہیں بارہا ایسے سوالات پہ رونا آیا کون روتا ہے …

اس کے نزدیک غمِ ترکِ وفا کچھ بھی نہیں (اختر شمار)

اس کے نزدیک غمِ ترکِ وفا کچھ بھی نہیں مطمئن ایسا ہے وہ جیسے ہوا کچھ بھی نہیں اب تو ہاتھوں سے لکیریں بھی مٹی جاتی ہیں اس کو کھو کر تو مرے پاس رہا کچھ بھی نہیں چار دن رہ گئے میلے میں مگر اب کہ بھی اس نے آنے کے لیے خط میں …

وفا کا بندہ ہوں الفت کا پاسدار ہوں میں (سائل دہلوی)

وفا کا بندہ ہوں الفت کا پاسدار ہوں میں حریفِ قمری و پروانہ و ہزار ہوں میں جدا جدا نظر آتی ہے جلوہ کی تاثیر قرار ہو گیا موسیٰ کو بے قرار ہوں میں شباب کر دیا میرا تباہ الفت نے خزاں کے ہاتھ کی بوئی ہوئی بہار ہوں میں سما گیا ہے یہ سودا …

ہنسی ، دل لگی ، مہ جبیں ہو چکی (سائل دہلوی)

ہنسی ، دل لگی ، مہ جبیں ہو چکی نہیں اب نہ کہنا ، نہیں ہو چکی سنا ہے تِرے خیر مقدم کی عید کہیں آج ہے کہیں کل ہو چکی ہوئی عشق کی بات ازل ہی میں طے وہیں ہونے والی وہیں ہو چکی مکرر گزارش پہ بولا وہ شوخ نہیں کہہ دیا بس …

نہیں ہے تابِ ضبطِ غم کسی عاشق کے امکاں میں (سائل دہلوی)

نہیں ہے تابِ ضبطِ غم کسی عاشق کے امکاں میں دلِ خوں گشتہ یا دامن میں ہو گا یا گریباں میں ہمیشہ پے کے مے جام و صراحی توڑ دیتا ہوں نہ میرا دل ترستا ہے نہ فرق آتا ہے ایماں میں مزہ کیوں کاوشِ زخمِ جگر کا آج کم کم ہے نمک کی کوئی …

ملے غیروں سے، مجھ سے رنج، (سائل دہلوی)

ملے غیروں سے، مجھ سے رنج، غم یوں بھی ہے اور یوں بھی وفا دشمن، جفا جو کا ستم یوں بھی ہے اور یوں بھی تم آؤ مرگِ شادی ہے ، نہ آؤ مرگِ ناکامی نظر میں اب رہِ ملکِ عدم یوں بھی ہے اور یوں بھی مجھے باور ہے تم جھوٹے نہیں ، وعدے …

حق و ناحق جلانا ہو کسی کو تو جلا دینا (سائل دہلوی)

حق و ناحق جلانا ہو کسی کو تو جلا دینا کوئی روئے تمہارے سامنے تو مسکرا دینا تردد برق ریزوں میں تمہیں کرنے کی کیا حاجت تہمیں کافی ہے ہنسنا، دیکھ لینا، مسکرا دینا تکلف برطرف کیوں پھول لے کر آؤ تربت پر مگر جب فاتحہ کو ہاتھ اٹھانا مسکرا دینا ہوئی بجلی سے کس …