ترکِ وفا تم کیوں کرتے ہو اتنی کیا بے زاری ہے (اعتبار ساجد)

ترکِ وفا تم کیوں کرتے ہو اتنی کیا بے زاری ہے ہم نے کوئی شکایت کی ہے بے شک جان ہماری ہے تم نے خود کو بانٹ دیا ہے کیسے اتنے خانوں میں سچوں سے بھی دعا سلام ہے جھوٹوں سے بھی یاری ہے کیسا ہجر قیامت کا ہے لہو میں شعلے ناچتے ہیں آنکھیں …

ایسا نہیں ہے کہ تیرے بعد اہلِ کرم نہیں ملے (اعتبار ساجد)

ایسا نہیں ہے کہ تیرے بعد اہلِ کرم نہیں ملے تجھ سا نہیں ملا کوئی، لوگ تو کم نہیں ملے ایک تری جدائی کے درد کی بات اور ہے جن کو نہ سہہ سکے یہ دل، ایسے تو غم نہیں ملے تجھ سے بچھڑنے کی کتھا اس کے سوا ہے اور کیا مل نہ سکیں …

اُس نے کہا کہ مجھ سے تمہیں کتنا پیار ہے (اعتبار ساجد)

اُس نے کہا کہ مجھ سے تمہیں کتنا پیار ہے میں نے کہا ستاروں کا کوئی شمار ہے ! اُس نے کہا کہ کون تمہیں ہے بہت عزیز؟ میں نے کہا کہ دل پہ جسے اختیار ہے اُس نے کہا کہ کون سا تحفہ ہے من پسند میں نے کہا وہ شام جو اب تک …

آپس میں بات چیت کی زحمت کیے بغیر (اعتبار ساجد)

آپس میں بات چیت کی زحمت کیے بغیر بس چل رہے ہیں ساتھ شکایت کیے بغیر آنکھوں سے کر رہے ہیں بیاں اپنی کیفیت ہونٹوں سے حالِ دل کی وضاحت کیے بغیر دونوں کو اپنی اپنی انائیں عزیز ہیں لیکن کسی کو نذرِ ملامت کیے بغیر ٹھہرا ہوا ہے وقت مراسم کے درمیاں پیدا خلیج …

یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے (احمد فراز)

یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے وہ بت ہے یا خدا دیکھا نہ جائے یہ کن نظروں سے تو نے آج دیکھا کہ تیرا دیکھنا دیکھا نہ جائے ہمیشہ کے لیے مجھ سے بچھڑ جا یہ منظر بارہا دیکھا نہ جائے غلط ہے جو سنا پر آزما کر تجھے اے بے وفا دیکھا نہ …

تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں، مرے دل سے بوجھ اتار دو (اعتبار ساجد)

تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں، مرے دل سے بوجھ اتار دو میں بہت دنوں سے اداس ہوں مجھے کوئی شام ادھار دو مجھے اپنے روپ کی دھوپ دو کہ چمک سکیں مرے خال و خد مجھے اپنے رنگ میں رنگ دو مرے سارے زنگ اتار دو کسی اور کو مرے حال سے نہ غرض ہے …

ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے (میر تقی میر)

ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے نہیں آتے کسو کی آنکھوں میں ہو کے عاشق بہت حقیر ہوئے آگے یہ بے ادائیاں کب تھیں ان دنوں تم بہت شریر ہوئے ایک دم تھی نبود بود اپنی یا سفیدی کی یا اخیر ہوئے مت مل اہلِ دوَل کے …

سر جھکاؤ گے تو پتھر دیوتا ہو جائے گا (بشیر بدر)

سر جھکاؤ گے تو پتھر دیوتا ہو جائے گا اتنا مت چاہو اسے وہ بے وفا ہو جائے گا  ہم بھی دریا ہیں ہمیں اپنا ہنر معلوم ہے جس طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہو جائے گا کتنی سچائی سے مجھ سے زندگی نے کہہ دیا تو نہیں میرا تو کوئی دوسرا ہو جائے …

کتنی بدل چکی ہے رُت جذبے بھی وہ نہیں رہے (اعتبار ساجد)

کتنی بدل چکی ہے رُت جذبے بھی وہ نہیں رہے دل پہ ترے فراق کے صدمے بھی وہ نہیں رہے محفلِ شب میں گفتگو اب کے ہوئی تو یہ کھلا باتیں بھی وہ نہیں رہیں لہجے بھی وہ نہیں رہے حلئیے بدل کے رکھ دیے جیسے شبِ فراق نے آنکھیں بھی وہ نہیں رہیں چہرے …

تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں (قتیل شفائی)

تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں ایک ذرا سا دل ٹوٹا ہے اور تو کوئی بات نہیں کس کو خبر تھی سانولے بادل بن برسے اڑ جاتے ہیں ساون آیا لیکن اپنی قسمت میں برسات نہیں  ٹوٹ گیا جب دل تو پھر یہ سانس کا نغمہ کیا معنی  گونج رہی ہے …