میں تکیے پر ستارے بو رہا ہوں (اعتبار ساجد)

میں تکیے پر ستارے بو رہا ہوں جنم دن ہے اکیلا رو رہا ہوں کسی نے جھانک کر دیکھا نہ دل میں کہ میں اندر سے کیسا ہو رہا ہوں جو دل پر داغ ہیں پچھلی رتوں کے انہیں اب آنسوؤں سے دھو رہا ہوں سبھی پرچھائیاں ہیں ساتھ لیکن بھری محفل میں تنہا ہو …

طلسم زار شب ماہ میں گزر جائے (اعتبار ساجد)

طلسم زار شب ماہ میں گزر جائے اب اتنی رات گئے کون اپنے گھر جائے عجب نشہ ہے ترے قرب میں کہ جی چاہے یہ زندگی تری آغوش میں گزر جائے میں تیرے جسم میں کچھ اس طرح سما جاؤں کہ تیرا لمس مری روح میں اتر جائے مثال برگ خزاں ہے ہوا کی زد …

آج روٹھے ہوئے ساجن کو بہت یاد کیا (ساغر صدیقی)

آج روٹھے ہوئے ساجن کو بہت یاد کیا اپنے اجڑے ہوئے گلشن کو بہت یاد کیا جب کبھی گردشِ تقدیر نے گھیرا ہے ہمیں گیسوئے یار کی الجھن کو بہت یاد کیا شمع کی جوت پہ جلتے ہوئے پروانوں نے اک ترے شعلہ دامن کو بہت یاد کیا جس کے ماتھے پہ نئی صبح کا …

ذرا سی بات پہ دل سے بگاڑ آیا ہوں (جمال احسانی)

ذرا سی بات پہ دل سے بگاڑ آیا ہوں بنا بنایا ہوا گھر اجاڑ آیا ہوں وہ انتقام کی آتش تھی میرے سینے میں ملا نہ کوئی تو خود کو پچھاڑ آیا ہوں میں اس جہان کی قسمت بدلنے نکلا تھا اور اپنے ہاتھ کا لکھا ہی پھاڑ آیا ہوں اب اپنے دوسرے پھیرے کے …

دھرتی پر سب درد کے مارے کس کے ہیں (جمال احسانی)

دھرتی پر سب درد کے مارے کس کے ہیں آسمان پر چاند ستارے کس کے ہیں سنتے ہیں وہ شخص تو گھر ہی بدل گیا پھر یہ دل آویز اشارے کس کے ہیں کس صحرا کی دھول ہے سب کی آنکھوں میں بے موج و بے رود کنارے کس کے ہیں اب کیا سوچنا ایسی …

اپنے ہمراہ جلا رکھا ہے (جمال احسانی)

اپنے ہمراہ جلا رکھا ہے طاق دل پر جو دیا رکھا ہے جنبش لب نہ سہی تیرے خلاف ہاتھ کو ہم نے اٹھا رکھا ہے تو مجھے چھوڑ کے جا سکتا نہیں چھوڑ اس بات میں کیا رکھا ہے وہ ملا دے گا ہمیں بھی جس نے آب اور گل کو ملا رکھا ہے مجھ …

بکھر گیا ہے جو موتی پرونے والا تھا (جمال احسانی)

بکھر گیا ہے جو موتی پرونے والا تھا وہ ہو رہا ہے یہاں جو نہ ہونے والا تھا اور اب یہ چاہتا ہوں کوئی غم بٹائے مرا میں اپنی مٹی کبھی آپ ڈھونے والا تھا ترے نہ آنے سے دل بھی نہیں دکھا شاید وگرنہ کیا میں سر شام سونے والا تھا ملا نہ تھا …

چراغ سامنے والے مکان میں بھی نہ تھا (جمال احسانی)

چراغ سامنے والے مکان میں بھی نہ تھا یہ سانحہ مرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا جو پہلے روز سے دو آنگنوں میں تھا حائل وہ فاصلہ تو زمین آسمان میں بھی نہ تھا یہ غم نہیں ہے کہ ہم دونوں ایک ہو نہ سکے یہ رنج ہے کہ کوئی درمیان میں بھی …

چُپکے چُپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے (حسرت موہانی)

چُپکے چُپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانہ یاد ہے باہزاراں اضطراب و صد ہزاراں اشتیاق تجھ سے وہ پہلے پہل دل کا لگانا یاد ہے کھینچ لینا وہ مِرا پردے کا کونہ دفعتاً اور دوپٹے سے تِرا وہ منہ چھپانا یاد ہے تجھ سے کچھ مِلتے …

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے (احمد فراز)

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے شکوۃ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے کتنا آساں تھا ترا ہجر میں مرنا جاناں پھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے جشنِ مقتل ہی نہ برپا  ہوا ورنہ ہم …