Category «احمد فراز»

عاشقی میں میر جیسے خواب مت دیکھا کرو (احمد فراز)

عاشقی میں میر جیسے خواب مت دیکھا کرو باؤلے ہو جاؤگے مہتاب مت دیکھا کرو جستہ جستہ پڑھ لیا کرنا مضمونِ وفا پر کتابِ عشق کا ہر باب مت دیکھا کرو اس تماشے میں الٹ جاتی ہیں اکثر کشتیاں ڈوبنے والوں کو زیرِ آب مت دیکھا کرو مے کدے میں کیا تکلف مے کشی میں …

نبھاتا کون ہے قول و قسم، تم جانتے تھے (احمد فراز)

نبھاتا کون ہے قول و قسم، تم جانتے تھے یہ قُربت عارضی ہے کم سے کم تم جانتے تھے رہا ہے کون، کس کے ساتھ انجامِ سفر تک یہ آغازِ مسافت ہی سے ہم تم جانتے تھے مزاجوں میں اُتر جاتی ہے تبدیلی مری جاں سو رہ سکتے تھے کیسے ہم بہم، تم جانتے تھے …

پیام آئے ہیں اس یارِ بے وفا کے مجھے (احمد فراز)

پیام آئے ہیں اس یارِ بے وفا کے مجھے جسے قرار نہ آیا کہیں بھلا کے مجھے جدائیاں ہوں ایسی کہ عمر بھر نہ ملیں فریب دو تو ذرا سلسلے بڑھا کے مجھے نشے سے کم تو نہیں یادِ یار کا عالم کہ لے اڑا ہے کوئی دوش پر ہوا کے مجھے میں خود کو …

وحشت تھی مگر چاک لبادہ بھی نہیں تھا (احمد فراز)

وحشت تھی مگر چاک لبادہ بھی نہیں تھایوں زخم نمائی کا ارادہ بھی نہیںخلعت کے لئے قیمتِ جاں یوں بھی بہت تھیپھر اتنا دلآویز لبادہ بھی نہیں تھاہم مرحبا کہتے تیرے ہر تیرِ ستم پرسچ بات کہ دل اتنا کشادہ بھی نہیں تھاہم خون میں نہلائے گئے تیری گلی میںاور تُو کہ سر بام ستادہ …

یہ میں بھی کیاہوں,اسُے بھول کراسُی کارہا (احمد فراز)

یہ میں بھی کیاہوں,اسُے بھول کراسُی کارہا کہ جس کے ساتھ نہ تھاہمسفراسی کارہا وہ بُت کے دشمنِ دیں تھابقول ناصح کے سوالِ سجدہ جب آیاتو دراسُی کارہا ہزارچارہ گروں نے ہزارباتیں کیں کہاجودل نے سخن معتبراسُی کارہا . بہت سی خواہشیں سوبارشوں میں بھیگی ہیں میں کس طرح سے کہوں عمربھراسُی کارہا کہ اپنے …

کہانیاں نہ سنو آس پاس لوگوں کی (احمد فراز)

کہانیاں نہ سنو آس پاس لوگوں کی کہ میرا شہر ہے بستی اداس لوگوں کی نہ کوئی سمت نہ منزل سو قافلہ کیسا رواں ہے بھیڑ فقط بے قیاس لوگوں کی کسی سے پوچھ ہی لیتے وفا کے باب میں ہم کمی نہیں تھی زمانہ شناس لوگوں کی محبتوں کا سفر ختم تو نہیں ہوتا …

اس نے جب چاہنے والوں سے اطاعت چاہی (احمد فراز)

اس نے جب چاہنے والوں سے اطاعت چاہی ہم نے آداب کہا اور رخصت چاہی یونہی بیکار میں کوئی کب تک بیٹھا رہتا اس کو فرصت جو نہ تھی ہم نے بھی رخصت چاہی شکوہ ناقدرئی دنیا کا کریں کیا کہ ہمیں کچھ زیادہ ہی ملی جتنی محبت چاہی رات جب جمع تھے دکھ دل …

زندگی یوں تھی ، کہ جینے کا بہانہ تُو تھا (احمد فراز)

زندگی یوں تھی ، کہ جینے کا بہانہ تُو تھا ھم فقط زیبِ حکایت تھے ، فسانہ تُو تھا ھم نے جس جس کو بھی چاھا , تیرے ھِجراں میں وہ لوگ آتے جاتے ھُوئے موسم تھے ، زمانہ تُو تھا اب کے کچھ دل ھی نہ مانا ، کہ پلٹ کر آتے ورنہ ھم …

کیوں نہ ہم عہدِ رفاقت کو بھلانے لگ جائیں (احمد فراز)

کیوں نہ ہم عہدِ رفاقت کو بھلانے لگ جائیں شاید اس زخم کو بھرنے میں زمانے لگ جائیں نہیں ایسا بھی کہ اک عمر کی قربت کے نشے ایک دو روز کی رنجش سے ٹھکانے لگ جائیں یہی ناصح! جو ہمیں تجھ سے نہ ملنے کو کہیں تجھ کو دیکھیں تو تجھے دیکھنے آنے لگ …

مل ہی آتے ہیں اسے ایسا بھی کیا ہو جائے گا (احمد مشتاق)

مل ہی آتے ہیں اسے ایسا بھی کیا ہو جائے گا بس یہی ناں درد کچھ دل کا سوا ہو جائے گا وہ مِرے دل کی پریشانی سے افسردہ ہو کیوں دل کا کیا ہے کل کو پھر اچھا بھلا ہو جائے گا​ گھر سے کچھ خوابوں سے ملنے کیلیے نکلے تھے ہم کیا خبر …