Category «احمد فراز»

یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے (احمد فراز)

یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے وہ بت ہے یا خدا دیکھا نہ جائے یہ کن نظروں سے تو نے آج دیکھا کہ تیرا دیکھنا دیکھا نہ جائے ہمیشہ کے لیے مجھ سے بچھڑ جا یہ منظر بارہا دیکھا نہ جائے غلط ہے جو سنا پر آزما کر تجھے اے بے وفا دیکھا نہ …

ہر کوئی دل کی ہتھیلی پہ ہے صحرا رکھے (احمد فراز)

ہر کوئی دل کی ہتھیلی پہ ہے صحرا رکھے کس کو سیراب کرے وہ کسی پیاسا رکھے عمر بھر کون نبھاتا ہے تعلق اتنا اے مری جان کے دشمن تجھے اللہ رکھے ہم کو اچھا نہیں لگتا کوئی ہم نام ترا کوئی تجھ سا ہو تو پھر نام بھی تجھ سا رکھے دل بھی پاگل …

وہ دشمنِ جاں، جاں سے پیارا بھی کبھی تھا (احمد فراز)

وہ دشمنِ جاں، جاں سے پیارا بھی کبھی تھا اب کس سے کہیں کوئی ہمارا بھی کبھی تھا اترا ہے رگ و پے میں تو دل کٹ سا گیا ہے یہ زہرِ جدائی گوارا بھی کبھی تھا ہر دوست جہاں ابرِ گریزاں کی طرح ہے یہ شہر، یہی شہر ہمارا بھی کبھی تھا تتلی کے …

اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی (احمد فراز)

آج پہلی بار اس سے میں نے بے وفائی کی ورنہ اب تلک یوں تھا خواہشوں کی بارش میں یا تو ٹوٹ کر رویا یا غزل سرائی کی تج دیا تھا کل جن کوہم نے تیری چاہت میں آج ان سے مجبوراً تازہ آشنائی کی  ہو چلا تھا جب مجھ کو اختلاف اپنے سے تو …

وہاں تو ہار قیامت بھی مان جاتی ہے (احمد فراز)

وہاں تو ہار قیامت بھی مان جاتی ہے جہاں تلک ترے قد کی اٹھان جاتی ہے یہ عہدِ سنگ زنی ہے سو چپ ہیں آئنہ گر کہ لب کشا ہوں تو سمجھو دکان جاتی ہے یہ مہرباں مشیت بھی ایک ماں کی طرح میں ضد کروں تو مری بات مان جاتی ہے سو کیا کریں …

عاشقی میں میر جیسے خواب مت دیکھا کرو (احمد فراز)

عاشقی میں میر جیسے خواب مت دیکھا کرو باؤلے ہو جاؤگے مہتاب مت دیکھا کرو جستہ جستہ پڑھ لیا کرنا مضمونِ وفا پر کتابِ عشق کا ہر باب مت دیکھا کرو اس تماشے میں الٹ جاتی ہیں اکثر کشتیاں ڈوبنے والوں کو زیرِ آب مت دیکھا کرو مے کدے میں کیا تکلف مے کشی میں …

نبھاتا کون ہے قول و قسم، تم جانتے تھے (احمد فراز)

نبھاتا کون ہے قول و قسم، تم جانتے تھے یہ قُربت عارضی ہے کم سے کم تم جانتے تھے رہا ہے کون، کس کے ساتھ انجامِ سفر تک یہ آغازِ مسافت ہی سے ہم تم جانتے تھے مزاجوں میں اُتر جاتی ہے تبدیلی مری جاں سو رہ سکتے تھے کیسے ہم بہم، تم جانتے تھے …

پیام آئے ہیں اس یارِ بے وفا کے مجھے (احمد فراز)

پیام آئے ہیں اس یارِ بے وفا کے مجھے جسے قرار نہ آیا کہیں بھلا کے مجھے جدائیاں ہوں ایسی کہ عمر بھر نہ ملیں فریب دو تو ذرا سلسلے بڑھا کے مجھے نشے سے کم تو نہیں یادِ یار کا عالم کہ لے اڑا ہے کوئی دوش پر ہوا کے مجھے میں خود کو …

وحشت تھی مگر چاک لبادہ بھی نہیں تھا (احمد فراز)

وحشت تھی مگر چاک لبادہ بھی نہیں تھایوں زخم نمائی کا ارادہ بھی نہیںخلعت کے لئے قیمتِ جاں یوں بھی بہت تھیپھر اتنا دلآویز لبادہ بھی نہیں تھاہم مرحبا کہتے تیرے ہر تیرِ ستم پرسچ بات کہ دل اتنا کشادہ بھی نہیں تھاہم خون میں نہلائے گئے تیری گلی میںاور تُو کہ سر بام ستادہ …

یہ میں بھی کیاہوں,اسُے بھول کراسُی کارہا (احمد فراز)

یہ میں بھی کیاہوں,اسُے بھول کراسُی کارہا کہ جس کے ساتھ نہ تھاہمسفراسی کارہا وہ بُت کے دشمنِ دیں تھابقول ناصح کے سوالِ سجدہ جب آیاتو دراسُی کارہا ہزارچارہ گروں نے ہزارباتیں کیں کہاجودل نے سخن معتبراسُی کارہا . بہت سی خواہشیں سوبارشوں میں بھیگی ہیں میں کس طرح سے کہوں عمربھراسُی کارہا کہ اپنے …