Category «احمد فراز»

یوسف نہ تھے مگر سرِ بازار آ گئے ( فراز)

یوسف نہ تھے مگر سرِ بازار آ گئے خوش فہمیاں یہ تھیں کہ خریدار آ گئے یہ سوچ کر کہ غم کے خریدار آ گئے ہم خواب بیچنے سرِ بازار آ گئے آواز دے کے چھپ گئی ہر بار زندگی ہم ایسے سادہ دل تھے کہ ہر بار آ گئے اب دل میں حوصلہ نہ …

یہ کیا کہ بیاں سب سے دل کی حالتیں کرنی (احمد فراز)

یہ کیا کہ بیاں سب سے دل کی حالتیں کرنی فراز تجھ کو نہ آئیں محبتیں کرنی یہ قرب کیا ہے کہ تو سامنے ہے اور ہمیں شمار ابھی سے جدائی کی ساعتیں کرنی سب اپنے اپنے قرینے سے منتظر اس کے کسی کو شکر کسی کو شکایتیں کرنی ہم اپنے دل سے ہیں مجبور …

وہ تو پتھر پہ بھی نہ گذرے خدا ہونے تک (احمد فراز)

وہ تو پتھر پہ بھی نہ گذرے خدا ہونے تک جو سفر  میں نے نہ ہونے سے کیا ہونے تک زندگی اس سے زیادہ تو نہیں عمر تری بس کسی دوست کے ملنے سے جدا ہونے تک مانگنا اپنے خدا سے بھی ہے دریوزہ گری ہاتھ پتھرا نہ گئے دستِ دعا ہونے تک اب کوئی …

ہوئی ہے شام تو آنکھوں میں بس گیا پھر تو (احمد فراز)

ہوئی ہے شام تو آنکھوں میں بس گیا پھر تو کہاں گیا ہے مرے شہر کے مسافر تو مری مثال کہ اک نخل خشک صحرا ہوں ترا خیال کہ شاخ چمن کا طائر تو میں جانتا ہوں کہ دنیا تجھے بدل دے گی میں مانتا ہوں کہ ایسا نہیں بظاہر تو ہنسی خوشی سے بچھڑ …

نہ کوئی چاپ نہ سایہ کوئی نہ سرگوشی (احمد فراز)

نہ کوئی چاپ نہ سایہ کوئی نہ سرگوشی مگر یہ دل کہ بضد ہے نہیں نہیں کوئی ہے یہ ہم کہ راندۃ افلاک تھے کہاں جاتے یہی بہت ہے کہ پاؤں تلے زمیں کوئی ہے ہر اِک زبان پہ اپنے لہو کے ذائقے ہیں نہ کوئی زہرِ ہلاہل نہ انگبیں کوئی ہے بھلا لگا ہے …

گلہ فضول تھا عہد وفا کے ہوتے ہوئے (احمد فراز)

گلہ فضول تھا عہد وفا کے ہوتے ہوئے سو چپ رہا ستم ناروا کے ہوتے ہوئے یہ قربتوں میں عجب فاصلے پڑے کہ مجھے ہے آشنا کی طلب آشنا کے ہوتے ہوئے وہ حیلہ گر ہیں جو مجبوریاں شمار کریں چراغ ہم نے جلائے ہوا کے ہوتے ہوئے نہ چاہنے پہ بھی تجھ کو خدا …

ساقیا ایک نظر جام سے پہلے (احمد فراز)

ساقیا ایک نظر جام سے پہلے ہم کو جانا ہے کہیں شام سے پہلے نو گرفتارِ وفا سعی رہائی ہے عبث ہم بھی الجھے تھے بہت دام سے پہلے خوش ہو اے دل کہ محبت تو نبھا دی ہم نے لوگ اجڑ جاتے ہیں انجام سے پہلے اب ترے ذکر پہ ہم بات بدل دیتے …

تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہو گئے (احمد فراز)

تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہو گئے پھر جو بھی در ملا ہے اسی در کے ہو گئے پھر یوں ہوا کہ غیر کو دل سے لگا لیا اندر وہ نفرتیں تھیں کہ باہر کے ہو گئے کیا لوگ تھے کہ جان سے بڑھ کر عزیز تھے اب دل سے محو نام …

اس نے کہا سن (احمد فراز)

اس نے کہا سن عہد نبھانے کی خاطر مت انا عہد نبھانے  والے اکثر مجبوری یا مہجوری کی تھکن سے لوٹا کرتے ہیں تم جاؤ اور دریا دریا پیاس بجھاؤ جن آنکھوں میں ڈوبو جس دل میں بھی اترو میری طلب آواز نہ دے گی لیکن جب میری چاہت اور میری خواہش کی لو اتنی …

مِرا ہی رنگ پریدہ ہر اک نظر میں رہا (احمد فراز)

مِرا ہی رنگ پریدہ ہر اک نظر میں رہاوگرنہ درد کا موسم تو شہر بھر میں رہا کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزلکوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا کچھ اس طرح سے گزری ہے زندگی جیسےتمام عمر کسی دوسرے کے گھر میں رہا وداعِ یار کا منظر فراز یاد نہیںبس …