Category «افتخار عارف»

تمہیں کیا ہو گیا ہے (افتخار عارف)

سرگوشی تمہیں کیا ہو گیا ہے بتاؤ تو سہی اے جان جاں! جانانِ جاں! آخر تمہیں کیا وہ گیا ہے اپنی ہی آواز سے ڈرنے لگے ہو، اپنے ہی سائے سے گھبرانے لگے ہو اپنے ہی چہرے سے شرمانے لگے ہو بتاؤ تو سہی آخر تمہیں کیا ہو گیا ہے چلو ہم نے مانا یہ …

مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے (افتخار عارف)

مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے یہ روشنی کے تعاقب میں بھاگتا ہوا دن جو تھک گیا ہے تو اب اس کو مختصر کر دے میں زندگی کی دعا مانگنے لگا ہوں بہت جو ہو سکے تو دعاؤں کو بے اثر کر …

ہوا کے پردے میں کون ہے جو (افتخار عارف)

مکالمہ ہوا کے پردے میں کون ہے جو چراغ کی لو سے کھیلتا ہے کوئی تو ہو گا جو خلعتِ انتساب پہنا کے وقت کی رو سے کھیلتا ہے کوئی تو ہوگا حجاب کو رمزِ نور کہتا ہے اور پرتو سے کھیلتا ہے کوئی تو ہو گا کوئی نہیں ہے کوئی نہیں ہے یہ خوش …

دیارِ نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو (افتخار عارف)

دیارِ نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو کوئی تو ہو جو میری وحشتوں کا ساتھی ہو میں اس سے جھوٹ بھی بولوں تو مجھ سے سچ بولے مِرے مزاج کے سبھی موسموں کا ساتھی ہو میں اس کے ہاتھ نہ آؤں وہ میرا ہو کے رہے میں گِر پڑوں تو مری پستیوں کا ساتھی …

ہمارے عندلیبِ گلشنِ ناآفریدہ کو (افتخار عارف)

غالب کے دو مصرعے ہمارے عندلیبِ گلشنِ ناآفریدہ کو نوائے طائرانِ آشیاں گم کردہ آتی تھی مگر ہم کو نہیں آتی ہمیں آتا بھی کیا ہے خبر کے اُس طرف کیا ہے کبھی اُس پر نظر رکھنے کا فن ہم کو نہیں آیا نظر کے زاویے کس طرح سے ترتیب پاتے ہیں کہاں اور کس …

پتنگیں لوٹنے والوں کو کیا معلوم (افتخار عارف

قصہ ایک بسنت کا پتنگیں لوٹنے والوں کو کیا معلوم کس کے ہاتھ کا مانجھا کھرا تھا اور کس کی ڈور ہلکی تھی اُنھیں اس سے غرض کیا پیچ پڑتے وقت کن ہاتھوں میں لرزہ آگیا تھا اور کس کی کھینچ اچھی تھی؟ ہوا کس کی طرف تھی، کونسی پالی کی بیری تھی؟ پتنگیں لُوٹنے …

گلدانوں میں سجے ہوئے پھولوں کو میں نے(افتخار عارف)

سوغات گلدانوں میں سجے ہوئے پھولوں کو میں نے رات اپنی آغوش میں لے کر اتنا بھینچا سارے رنگ اور ساری خوشبو انگ انگ میں بسی ہوئی ہے ساری دُنیا نئی ہوئی ہے پر مجھ کو اُن سب رنگوں اور خوشبوؤ ں سے ڈر لگتا ہے جن کا مقدر تنہائی ہو یا پھر ایسی رُسوائی …

جوہری کو کیا معلوم کس طرح کی مٹی میں کیسے پھول ہوتےہیں (افتخار عارف)

تجاہلِ عارفانہ جوہری کو کیا معلوم کس طرح کی مٹی میں کیسے پھول ہوتےہیں کس طرح کے پھولوں میں کیسی باس ہوتی ہے جوہری کو کیا معلوم جوہری تو ساری عمرپتھروں میں رہتا ہے زرگروں میں رہتا ہے جوہری کو کیا معلوم یہ تو بس وُہی جانے جس نے اپنی مٹی سے اپنا ایک اک …

میرے آباء و اجداد نے حرمت ِآدمی کے لیے (افتخار عارف)

ایک سوال میرے آباء و اجداد نے حرمت ِآدمی کے لیے تا ابد روشنی کے لیے کلمۂ حق کہا مقتلوں، قید خانوں، صلیبوں میں بہتا لہو ان کے ہونے کا اعلان کرتا رہا وہ لہو حرمت آدمی کی ضمانت بنا تا ابد روشنی کی علامت بنا اور میں پا برہنہ سر ِکوچۂ احتیاج رزق کی …

عجب گھڑی تھی (افتخار عارف)

بدشگونی عجب گھڑی تھی کتاب کیچڑ میں گر پڑی تھی چمکتے لفظوں کی میلی آنکھوں میں اُلجھے آنسو بلارہے تھے مگر مجھے ہوش ہی کہاں تھا نظر میں اک اور ہی جہاں تھا نئے نئے منظروں کی خواہش میں اپنے منظر سے کٹ گیا ہوں نئے نئے دائروں کی گردش میں اپنے محور سے ہٹ …